Monday , January 22 2018
Home / سیاسیات / قائد اپوزیشن کا عہدہ حاصل کرنا پارٹی کا دستوری حق : کانگریس کا ادعا

قائد اپوزیشن کا عہدہ حاصل کرنا پارٹی کا دستوری حق : کانگریس کا ادعا

نئی دہلی 4 جولائی ( سیاست ڈاٹ کام ) کانگریس ایسا لگتا ہے کہ لوک سبھا میں قائد اپوزیشن کا عہدہ حاصل کرنے کی اپنی جدوجہد کو تیز کردیگی ۔ پارٹی چاہتی ہے کہ لوک سبھا میں اس کے لیڈر کو قائد اپوزیشن کا عہدہ دیا جائے اور اس کا کہنا ہے کہ اسپیکر کو ایسا کرنے سے انکار کرنے کا کوئی حق حاصل نہیں ہے ۔ پارٹی ترجمان رندیپ سرجیوالا نے کہا کہ قائد اپوزی

نئی دہلی 4 جولائی ( سیاست ڈاٹ کام ) کانگریس ایسا لگتا ہے کہ لوک سبھا میں قائد اپوزیشن کا عہدہ حاصل کرنے کی اپنی جدوجہد کو تیز کردیگی ۔ پارٹی چاہتی ہے کہ لوک سبھا میں اس کے لیڈر کو قائد اپوزیشن کا عہدہ دیا جائے اور اس کا کہنا ہے کہ اسپیکر کو ایسا کرنے سے انکار کرنے کا کوئی حق حاصل نہیں ہے ۔ پارٹی ترجمان رندیپ سرجیوالا نے کہا کہ قائد اپوزیشن کا موقف دینے سے متعلق اسپیکر کے جو اختیارات ہیں وہ یکطرفہ اور سخت گیر نہیں ہوسکتے ۔ قائد اپوزیشن کا عہدہ کانگریس پارٹی کا دستوری حق ہے کیونکہ اپوزیشن میں وہ سب سے بڑي پارٹی ہے اور وہ انتخابات سے قبل کا سب سے بڑا اتحادی گروپ بھی ہے ۔

مسٹر سرجیوالا نے اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس پارٹی کو اس حق سے محروم کردینا دستوری جمہوریت کے مغائر ہوگا ۔ ہمیں سنجیدہ امید ہے کہ حکومت یا اسپیکر ایسے آمرانہ اقدام سے گریز کرینگے ۔ انہوں نے ادعا کیا کہ اسپیکر موصوف کو بھی پارلیمانی جمہوریت کے اصولوں کے تابع رہنا پڑتا ہے ۔ جب ان سے سوال کیا گیا کہ آیا کانگریس اس مسئلہ پر عدالت کا دروازہ کھٹکھٹائیگی مسٹر سرجیوالا نے کہا کہ ابھی وہ مفروضہ پر مبنی سوال کا جواب دینا نہیں چاہتے ۔ جب موقع آئیگا تو صورتحال کے مطابق فیصلہ کیا جائیگا ۔ ہم ابھی سے کچھ بھی کہنے سے گریز کرتے ہیں تاہم کسی بھی امکان کو فی الحال مسترد بھی نہیں کیا جاسکتا ۔ جب ان سے کہا گیا ہے کہ حکومت کا یہ کہنا ہے کہ اس مسئلہ پر اسپیکر کو فیصلہ کرنا ہوتا ہے مسٹر سرجیوالا نے کہا کہ ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ کسی بھی فیصلے پر اسپیکر موجودہ حکومت سے مشاورت کرتے ہیں۔ مسٹر سرجیوالا نے یہ ریمارکس ایسے وقت میں کئے ہیں جبکہ اسپیکر لوک سبھا سمترا مہاجن کی جانب سے 7 جولائی سے شروع ہونے والے پارلیمنٹ کے بجٹ اجلاس سے قبل تمام سیاسی جماعتوں کے قائدین کا ایک روایتی اجلاس طلب کیا جانے والا ہے ۔ اسپیکر سمترا مہاجن پہلے ہی کہہ چکی ہیں کہ وہ اس مسئلہ پر پارلیمنٹ کے بجٹ اجلاس سے قبل دستوری ماہرین اور تجربہ کار افراد سے مشاورت کے بعد فیصلہ کرینگی ۔

اس سوال پر کہ آیا کانگریس پارٹی اس مسئلہ پر اسپیکر کو مکتوب روانہ کریگی انہوں نے کہا کہ پارٹی کے راجیہ سبھا اور لوک سبھا میں قائدین کانگریس کی صدر سونیا گاندھی اور نائب صدر راہول گاندھی سے مشاورت کے بعد اس تعلق سے فیصلہ کرینگے ۔ لوک سبھا میں کانگریس لیڈر ملکارجن کھرگے نے یو پی اے کے ایک وفد کے ساتھ اسپیکر سے ملاقات کی تھی اور بعد ازاں کہا تھا کہ یہ صرف ایک رسمی ملاقات تھی اور قائد اپوزیشن کے مسئلہ پر اس موقع پر تبادلہ خیال نہیں کیا گیا ۔ لوک سبھا انتخابات میں کانگریس کو صرف 44 نشستوں پر کامیابی ملی تھی اور حکومت کے حلقوں کا کہنا ہے کہ اس کے پاس لوک سبھا ارکان کی جملہ تعداد کے 10 فیصد ارکان نہیں ہیں کہ اسے قائد اپوزیشن کا عہدہ دیا جائے ۔ کانگریس تاہم کہتی ہے کہ چونکہ وہ سب سے بڑی اپوزیشن جماعت ہے اس لئے اسے یہ عہدہ دیا جانا چاہئے ۔

TOPPOPULARRECENT