Thursday , December 13 2018

قائد اپوزیشن کے عہدہ سے انکار پر کانگریس کی فرضی کابینی کمیٹیاں

نئی دہلی 7 نومبر (سیاست ڈاٹ کام)قائد اپوزیشن لوک سبھا کا عہدہ دینے سے حکومت کے انکار کے بعد کانگریس نے کئی فرضی کابینی کمیٹیاں قائم کی ہیںجن کے ساتھ ٹوئٹر بھی موجود ہے۔ موثر اپوزیشن کی حیثیت سے اقدامات کا فرضی کابینی کمیٹیوں کی تشکیل ایک حصہ ہے۔ 7 فرضی کابینی کمیٹیاں پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس کے آغاز سے پہلے قائم کی گئی ہیں۔ سرمائی اج

نئی دہلی 7 نومبر (سیاست ڈاٹ کام)قائد اپوزیشن لوک سبھا کا عہدہ دینے سے حکومت کے انکار کے بعد کانگریس نے کئی فرضی کابینی کمیٹیاں قائم کی ہیںجن کے ساتھ ٹوئٹر بھی موجود ہے۔ موثر اپوزیشن کی حیثیت سے اقدامات کا فرضی کابینی کمیٹیوں کی تشکیل ایک حصہ ہے۔ 7 فرضی کابینی کمیٹیاں پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس کے آغاز سے پہلے قائم کی گئی ہیں۔ سرمائی اجلاس کا آغاز 24 نومبر کو ہوگا جس میں اہم وزارتوں کی پالیسیوں اور فیصلوں پر یہ فرضی کمیٹیاں نظر رکھیں گی۔ پارٹی کے سینئر قائد نے کہا کہ لوک سبھا میں 44 ارکان موجود ہونے کے باوجود کانگریس کو پارلیمنٹ میں حکومت کا سامنا کرنے کی صلاحیت سے استفادہ کرنے پر مجبور ہونا پڑا ہے۔ حکومت نئے قوانین منظور کرے گی اور سابق کانگریس زیر قیادت حکومت کے منظورہ قوانین میں ترمیمات کرے گی۔ سابق وزراء اے کے انٹونی، ایم ویرپا موئیلی، آنند شرما ،آسکر فرنانڈیز اور قائد کانگریس لوک سبھا پارٹی ملک ارجن کھرگے کے علاوہ قائد اپوزیشن راجیہ سبھا غلام نبی آزاد کمیٹیوں کے ممتاز ارکان میںشامل ہیں۔ کمیٹی فینانس ، امور خارجہ تجارت اور اطلاعات و نشریات کے مسائل سے نمٹیں گی۔ موئیلی ،شرما اور جیوتر آدتیہ سندھیا فرضی کابینی کمیٹی برائے داخلہ، دفاع ،قانون و انصاف کے ارکان ہیں۔انٹونی اشونی کمار اور یوتھ کانگریس کے صدر راجیو ساتو بھی شامل ہیں۔ ڈگ وجئے سنگھ، اشوک چوان اور نینانگ ایرنگ اس گروپ کے ارکان ہوں گے جو زراعت ،پینے کا پانی اور صفائی پر نظر رکھے گا ۔ کھرگے ریلوے اور لیبر کمیٹی میں شامل ہیں۔

TOPPOPULARRECENT