Saturday , December 15 2018

قائد کی بھجن منڈلی کے بعد ارکان بھی پیش پیش

حد کردی آپ نے

حلیف جماعت کے رول سے حکمراں جماعت کے قائدین حیرت میں
حیدرآباد۔ 23 نومبر (سیاست نیوز) کسی بھی حکومت کے کارناموں کی تشہیر کے لیے عام طور پر تشہیری ٹیموں کو تشکیل دیا جاتا ہے جو گائوں گائوں پھرکر ناچتے اور گاتے ہوئے حکومت اور چیف منسٹر کی مدح سرائی کرتے ہیں۔ اکثر و بیشتر انہیں بھجن منڈلی کے نام سے جانا جاتا ہے جن میں مختلف فنکار شامل ہوتے ہیں۔ حکومت کے محکمہ ثقافت سے گائوں گائوں ان ٹیموں کے پروگرام منعقد کیے جاتے ہیں۔ کے سی آر کی زیر قیادت ٹی آر ایس حکومت نے بھی محکمہ ثقافت کا بھرپور استعمال کیا ہے۔ بھجن منڈلیاں دیہی علاقوں میں حکومت کا پرچار کررہی ہیں تو دوسری طرف حیدرآباد اور خاص طور پر پرانے شہر میں عوام منفرد انداز کی بھجن منڈلیوں کو دیکھ رہے ہیں جو ہر عوامی تقریب میں چیف منسٹر کی تعریفوں کے پل باندھ رہے ہیں۔ تقریب بھلے ہی کچھ ہو لیکن منڈلی کے ان ارکان کا کام چیف منسٹر کی تعریف اور ستائش کرنا ہے۔ اسمبلی اجلاس میں مقامی سیاسی جماعت نے چیف منسٹر کی تعریف اور ستائش کچھ اس طرح کی کہ خود ٹی آر ایس کے ارکان اسمبلی شرماگئے۔ کیوں کہ برسر اقتدار پارٹی کے کسی رکن نے بھی اسمبلی کی تاریخ میں کے سی آر کے حق میں اس طرح کے الفاظ ادا کیے ہوں۔ اسمبلی میں مسلمانوں کے حق میں اعلانات کے ذریعہ چیف منسٹر نے مقامی جماعت کے کان خوش کیے تو اس کے جواب میں پارٹی کے فلور لیڈر نے چیف منسٹر کے کانوں کو خوش کیا اور متحدہ آندھراپردیش کی تاریخ کے واحد مسلم دوست چیف منسٹر کے اعزاز سے نوازا۔ اسمبلی میں اگر تعریف کی جائے تو پھر بھی یہ سمجھا جائے گا کہ چیف منسٹر کی موجودگی میں تعریف کرنا مجبوری ہے لیکن پرانے شہر کے گلی کوچوں میں مقامی جماعت کے عوامی نمائندے حکومت کا بھجن کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔ پرانے شہر کے عثمان پورہ علاقہ میں واقع اسکول میں اولڈ بوائز اسوسی ایشن کی جانب سے اسکول کی کرسپانڈنٹ کی تہنیتی تقریب منعقد کی گئی تھی۔ تقریب کے مہمانان خصوصی کی حیثیت سے مقامی رکن اسمبلی احمد پاشاہ قادری اور کھادی اینڈ ولیج بورڈ کے صدرنشین مولانا محمد یوسف زاہد نے شرکت کی۔ تقریب کے انعقاد کا مقصد اسکول کی خاتون کرسپانڈنٹ کی تعلیمی خدمات کو خراج تحسین پیش کرنا تھا لیکن رکن اسمبلی نے موضوع سے ہٹ کر مکمل تقریر چیف منسٹر اور حکومت کی تعریف میں کرتے ہوئے سامعین کو حیرت میں ڈال دیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ حکومت کے نامزد کردہ صدرنشین کھادی اینڈ ولیج بورڈ مولانا یوسف زاہد نے رکن اسمبلی سے قبل تقریر کرتے ہوئے اسکول کی تعلیمی خدمات کا ذکر کیا اور مسلمانوں کی تعلیمی ترقی کے سلسلہ میں کے سی آر حکومت کی مساعی کا سرسری انداز میں تذکرہ کیا۔ ان کے بعد مائک پر آنے والے رکن اسمبلی نے اپنی مکمل تقریر چیف منسٹر کے لیے وقف کردی۔ ایسا محسوس ہورہا تھا کہ کے سی آر نے پرانے شہر میں حکومت کی تشہیر کے لیے مقامی جماعت کو بھجن منڈلی کے کام پر مامور کردیا ہے۔ عوام خود بھی حیرت میں ہے کہ حیدرآباد کے رکن پارلیمنٹ ہوں یا پھر مقامی جماعت کے ارکان اسمبلی ہر سرکاری یا غیر سرکاری حتی کہ نجی محفلوں میں بھی کے سی آر کے نام کا جاپ کررہے ہیں۔ کیا یہ قیادت کی ’’ہدایت‘‘ پر ہے یا پھر حقیقی معنوں میں حکومت نے کوئی ذمہ داری دی ہے۔ عوام کو حکومت کے وعدوں سے اگرچہ کوئی خاص فائدہ نہیں ہوا لیکن مقامی جماعت کے رویہ سے عوام یہ سوچنے پر مجبور ہے کہ شاید قیادت کا کچھ بھلا ضرور ہوا ہوگا۔ اسکول کی آج کی تقریب میں موجود سامعین اور منتظمین کو حکومت کے نمائندے یوسف زاہد سے زیادہ رکن اسمبلی پاشاہ قادری کی کے سی آر کے حق میں تعریف پر چہ مگوئیاں کرتے دیکھا گیا۔

TOPPOPULARRECENT