Saturday , January 20 2018
Home / شہر کی خبریں / قاضی ایکٹ پر عمل آوری اور ضروری ترمیمات کے لیے جائزہ اجلاس

قاضی ایکٹ پر عمل آوری اور ضروری ترمیمات کے لیے جائزہ اجلاس

حیدرآباد۔/4فروری، ( سیاست نیوز) قاضی ایکٹ 1880ء پر عمل آوری اور موجودہ تقاضوں کے مطابق ضروری ترمیمات کا جائزہ لینے کیلئے محکمہ اقلیتی بہبود کی جانب سے آج ایک اجلاس منعقد کیا گیا جس میں ماہرین قانون کے علاوہ علماء، مشائخ، سابق اعلیٰ عہدیداروں، سماجی تنظیموں کے نمائندوں کے علاوہ قاضیوں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ اسپیشل سکریٹری اقلیتی بہ

حیدرآباد۔/4فروری، ( سیاست نیوز) قاضی ایکٹ 1880ء پر عمل آوری اور موجودہ تقاضوں کے مطابق ضروری ترمیمات کا جائزہ لینے کیلئے محکمہ اقلیتی بہبود کی جانب سے آج ایک اجلاس منعقد کیا گیا جس میں ماہرین قانون کے علاوہ علماء، مشائخ، سابق اعلیٰ عہدیداروں، سماجی تنظیموں کے نمائندوں کے علاوہ قاضیوں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ اسپیشل سکریٹری اقلیتی بہبود سید عمر جلیل کی جانب سے طلب کردہ اس اجلاس میں کمشنر اقلیتی بہبود شیخ محمد اقبال، منیجنگ ڈائرکٹر اقلیتی فینانس کارپوریشن پروفیسر ایس اے شکور، چیف ایکزیکیٹو آفیسر وقف بورڈ ایم اے حمید، مفتی عظیم الدین صدر مفتی جامعہ نظامیہ، مولانا سید قبول پاشاہ قادری شطاری، مولانا حسام الدین ثانی جعفر پاشاہ، حافظ پیر شبیر احمد ایم ایل سی، محمد سلیم ایم ایل سی، شیفق الزماں ریٹائرڈ آئی اے ایس، ڈاکٹر حسن الدین احمد ریٹائرڈ آئی اے ایس، پی اسمعیل ریٹائرڈ جج، پروفیسر احمد اللہ خاں کے علاوہ شیعہ اور مہدوی طبقہ کے قاضیوں نے شرکت کی۔

اضلاع سے بھی قاضیوں کی نمائندگی اجلاس میں موجود تھی۔ قاضی ایکٹ میں ترمیمات اور قاضیوں کے تقررات و اختیارات کے مسئلہ پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔ قاضیوں کو طلاق کے ساتھ ساتھ خلع کے اختیارات کا مسئلہ بھی زیر بحث آیا۔ ابتدائی اجلاس کے بعد چھ مختلف گروپس میں مباحثہ کا آغاز ہوا جہاں مختلف اُمور پر تحریری تجاویز پیش کی گئیں۔ قاضیوں کے تقررات کے علاوہ تقرر کے لئے ان اہلیت، میعاد اور علاقہ کے تعین جیسے اُمور کا جائزہ لیا گیا۔ واضح رہے کہ 2006ء سے قاضی ایکٹ میں ترمیم اور قاضیوں کے تقررات پر تنازعہ جاری ہے۔ قاضی ویلفیر اسوسی ایشن کی جانب سے اس سلسلہ میں بارہا نمائندگی کی گئی کہ قاضیوں کے حدود کا تعین ہو اور نئے تقررات پر پابندی عائد کی جائے۔ سابق میں حیدرآباد کو چھوڑ کر اضلاع میں 50ہزار نفوس پر ایک قاضی کے تقرر کا فیصلہ کیا گیا تھا۔2006ء میں نئے تقررات پر پابندی عائد کی گئی تاہم 2008ء میں پابندی ختم کی گئی۔2006ء میں ریاست میں قاضیوں کی تعداد 111تھی جو اب بڑھ کر 170تک پہنچ گئی۔قاضیوں کے حدود کے مسئلہ پر کافی تنازعات دیکھے جارہے ہیں۔ آج کے اجلاس میں قاضیوں کو خلع کا حق دیئے جانے کا مسئلہ بھی زیر بحث رہا تاہم اس سلسلہ میں تحریری تجاویز حاصل کی گئیں۔ تمام امور پر تجاویز حاصل کرنے کے بعد محکمہ اقلیتی بہبود نے فیصلہ کیا کہ بہت جلد دوبارہ اجلاس طلب کیا جائے گا جس میں تجاویز کے پس منظر میں فیصلے کئے جائیں گے۔

TOPPOPULARRECENT