Sunday , December 17 2017
Home / شہر کی خبریں / قاضی پیٹ تا چینائی پاسنجر ٹرین کی رفتار کو بڑھانے جرمنی سے معاہدہ

قاضی پیٹ تا چینائی پاسنجر ٹرین کی رفتار کو بڑھانے جرمنی سے معاہدہ

حکومت ہند اور حکومت جرمنی سے یادداشت مفاہمت
حیدرآباد۔11اکٹوبر (سیاست نیوز) قاضی پیٹ تا چینائی پیسنجر ٹرین کی رفتار کو تیز کرنے کے عمل کا جائزہ لینے کے لئے وزارت ریلوے نے جرمنی کے محکمہ ریل سے معاہدہ کیا ہے اور جرمنی سے تعلق رکھنے والی ایجنسی اس روٹ پر پیسنجر ٹرین کی رفتار کو 200کیلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلانے کے عمل کے متعلق جائزہ لیتے ہوئے رپورٹ تیار کرے گی۔ حکومت ہندکی وزارت ریلوے اور جرمنی حکومت کی وزارت ریلوے کے درمیان کئے گئے اس معاہدہ کے مطابق یہ رپورٹ 50:50کے اساس پر تیار کی جائے گی اور دونوں ممالک کے ماہرین اس مطالعہ کے دوران ساتھ ہوں گے۔ قاضی پیٹ اور چینائی کے درمیان پیسنجر ٹرین کی رفتار میں اضافہ کیلئے کئے جانے والے اس مطالعہ کے دوران اس راہداری کے بیچ موجود ریلوے اسٹیشنس کو A زمرے سے بڑھا کر A1 زمرے میں شامل کرنے کے اقدامات بھی کئے جائیں گے۔بتایا جاتاہے کہ قاضی پیٹ اور چینائی کے درمیان 643 کیلو میٹر طویل اس راہداری میں گوڈور‘ نیلور‘ وجئے واڑہ ‘ ورنگل آتے ہیں اور اس راہدار پر رفتار کی حد 110 کیلو میٹر فی گھنٹہ ہے جس میں 90کیلومیٹر فی گھنٹہ کا اضافہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور اس فیصلہ کو قابل عمل بنانے کے لئے کئے جانے والے اقدامات کے تحت اولین اس سلسلہ میں مطالعاتی رپورٹ کی تیاری کی ضرورت ہے اور اس مطالعہ کیلئے وزارت ریلوے کی جانب سے جرمنی سے معاہدہ کرلیا گیاہے ۔بتایا جاتاہے کہ ساؤتھ ریلوے زون میں 110 کیلو میٹر فی گھنٹہ کی حد مقرر ہے جبکہ سنٹرل ریلوے زون میں 120 کیلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ریل گاڑی چلائی جا سکتی ہے لیکن اس سے زائد رفتار سے کوئی بھی پیسنجر ٹرین کو چلنے کی اجازت نہیں ہے کیونکہ ان حدود میں جملہ 216ریلوے کراسنگ موجود ہیں جو مکمل آدمیوں کی نگرانی میں ہیں اس کے علاوہ اس راہداری میں 1979برجس سے ریل گذرتی ہے جن میں چھوٹے اور متوسط برج بھی شامل ہیں۔فی الحال قاضی پیٹ سے چینائی کیلئے صرف ایک ٹرین چارمینار سوپر فاسٹ ایکسپریس موجود ہے اور یہ ٹرین 13 مقامات پر توقف کرتے ہوئے چینائی پہنچتی ہے جس کی اوسط رفتار 57کیلو میٹر فی گھنٹہ ہے ۔اس ٹرین کے ذریعہ 643 کیلو میٹر کی یہ مسافت 11 گھنٹے 20 منٹ میں مکمل کی جاتی ہے لیکن اس مطالعہ کے بعد یہ مسافت مزید کم ہو جائے گی لیکن توقف وہی برقرار رہے گا۔ذرائع کے مطابق اس مطالعہ کی تکمیل آئندہ چند ماہ میں مکمل کرلی جائے گی اور پسینجر ٹرین کی رفتار میں اضافہ کا عمل آئندہ برس شروع کئے جانے کا امکان ہے۔

TOPPOPULARRECENT