Tuesday , November 21 2017
Home / شہر کی خبریں / قانون حق تعلیم پر عمل آوری کا مطالبہ

قانون حق تعلیم پر عمل آوری کا مطالبہ

کے جی تا پی جی مفت تعلیم بھی نظر انداز ، چائیلڈ رائیٹ پروٹیکشن فورم کی پریس کانفرنس
حیدرآباد ۔ 25 ۔ مارچ : ( سیاست نیوز ) : چائلڈ رائٹ پروٹیکشن فورم اور تلنگانہ پیپلز ایجوکیشن ریفارم موومنٹ ایم نارائنا جنرل سکریٹری موومنٹ نے کہا کہ سیاسی قائدین کی کاوشوں اور کامیاب نمائندگی کی بدولت 2009 میں راجیہ سبھا اور لوک سبھا میں قانون حق تعلیم کی منظوری دی گئی لیکن اس قانون کی اہمیت کو اجاگر نہیں کیا جارہا ہے ۔ جس کی وجہ سے طلباء کو کافی نقصان ہورہا ہے ۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ اسمبلی میں تلنگانہ کے چیف منسٹر نے بھی اس قانون کو بے سود قرار دیا اور اس کی اہمیت پر روشنی نہیں ڈالی لیکن حقیقت یہ ہے کہ اگر اس قانون پر عمل آوری ہو تو دلت اور گریجن قوم کے طلباء اس سے استفادہ کرسکتے تھے ۔ آر وینکٹ ریڈی کنوینر نے کہا کہ ایکٹ کو نظر انداز کردینے سے طلباء کی حق تلفی ہورہی ہے ۔ وشویشور راؤ قائد عام آدمی پارٹی نے کہا کہ علحدہ تلنگانہ سے قبل چندر شیکھر راؤ نے اپنے منشور میں کے جی تا پی جی مفت تعلیم کی سہولت کا اعلان کیا تھا ۔ دو سال کا طویل عرصہ گزرنے کے باوجود اس پر عمل آوری نہیں ہورہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ قانون حق تعلیم میں طلباء کو ان گنت فائدے ہیں ۔ اسکول میں پینے کا پانی ، ٹائلٹس اور فرنیچر کی فراہمی کے علاوہ ترک تعلیم والے طلباء کو بھی تعلیم دلوائی جاسکتی ہے ۔ ملیش نے کہا کہ مدرسوں میں طلباء نہ ہونے کی وجہ مدرسے بند ہوجانے کی نوبت آرہی ہے اور قانون حق تعلیم صرف آٹھویں جماعت تک کے طلباء تک ہی محدود کردیا گیا ہے ۔ اسے انٹر میڈیٹ کی جماعتوں تک وسعت دینے کی ضرورت ہے ۔ اس موقع پر ڈی پرکاش اسٹیٹ کنوینر ، مرلی موہن اسٹیٹ کنوینر RTI فورم کے علاوہ دیگر اراکین موجود تھے ۔۔

TOPPOPULARRECENT