Thursday , January 18 2018
Home / شہر کی خبریں / قانون حق تعلیم کا اقلیتی اسکول پر اطلاق نہیں

قانون حق تعلیم کا اقلیتی اسکول پر اطلاق نہیں

خانگی اقلیتی ادارے کمزور طبقات کے لیے 25 فیصد نشستیں محفوظ رکھنے کے بھی پابند نہیں : سپریم کورٹ

خانگی اقلیتی ادارے کمزور طبقات کے لیے 25 فیصد نشستیں محفوظ رکھنے کے بھی پابند نہیں : سپریم کورٹ
حیدرآباد ۔9 ۔ مئی : ( سیاست نیوز ) : قانون حق تعلیم کا امدادی یا غیر امدادی اقلیتی اسکولوں پر اطلاق نہیں ہوتا ۔ ان حالات میں اقلیتی اسکولس معاشی طور پر کمزور طبقات سے تعلق رکھنے والے بچوں کے لیے 25 فیصد نشستیں محفوظ رکھنے کے پابند نہیں ہوں گے ۔ یہ اقلیتی تعلیمی اداریوں کی کسی انجمن یونین اور اسوسی ایشن کے عہدیداروں کی جانب سے ظاہر کردہ خیالات نہیں ہیں بلکہ ہمارے ملک کی عدالت عظمیٰ ( سپریم کورٹ ) کی رولنگ ہے جس سے ملک کے طول و عرض میں پھیلے لاکھوں اقلیتی اسکولوں کو زبردست راحت ملی ہے ۔ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس آر ایم لودھا کی زیر قیادت ایک پانچ رکنی بنچ نے کہا ہے کہ اقلیتی ادارے قانون حق تعلیم کے دائرہ کار میں نہیں آتے ۔ عدالت عظمیٰ نے ساتھ ہی سماجی بہبود سے متعلق قانون کے دستوری جواز کو بھی برقرار رکھا ہے جس کی کئی ایک دستوری ترمیمات کے بعد تدوین عمل میں آئی تھی ۔ اس قانون کے تحت غیر امدادی خانگی اسکولوں کے لیے کمزور طبقات کے طلبہ کے لیے 25 فیصد نشستیں محفوظ رکھنا لازمی قرار دیا گیا ہے ۔ سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بنچ نے دفعہ (5)15 اور 21A کو بھی برقرار رکھا ہے جس کے تحت خانگی اسکولوں کے لیے عملاً 25 فیصد نشستیں کمزور طبقات سے تعلق رکھنے والے طلبہ کے لیے محفوظ کرنا لازمی ہے ۔ عدالت عظمیٰ نے مذکورہ رولنگ کرناٹک میں قائم کچھ تعلیمی اداروں کی جانب سے داخل کردہ درخواستوں پر دی ہے جس میں آر ٹی ای کے جواز پر سوالات اٹھائے گئے تھے ۔ جس میں اہم سوال آر ٹی ای کے تحت خانگی اسکولوں میں کمزور طبقات کے لیے نشستیں محفوظ کرنے سے متعلق بھی تھا ۔ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلہ میں پہلے ہی کہا ہے کہ قانون حق تعلیم کے تحت نشستوں کا محفوظ کیا جانا دستوری طور پر جائز نہیں ہے ایسے میں غیر امدادی اسکولس چاہے وہ اکثریتی یا اقلیتی کیوں نہ ہوں اپنے اداروں میں 25 فیصد نشستیں محفوظ ( مختص ) کرنے پر مجبور نہیں ہوسکتے ۔ واضح رہے کہ جسٹس کے ایس رادھا کرشنن نے اپنی رولنگ میں یہ بھی کہا تھا کہ غیر امدادی غیر اقلیتی اور اقلیتی اداروں کی صورت میں اس طرح کا کوٹہ صرف اور صرف رضاکارانہ اصولوں کی بنیاد پر اور اتفاق رائے سے مقرر کیا جاسکتا ہے ۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ اسکول انتظامیہ کو ان کے اداروں میں کوٹہ محفوظ کرنے پر مجبور کیا جائے ۔ آپ کو بتادیں کہ 23 اگست 2013 کو ایک تین رکنی بنچ نے اس مسئلہ کو پانچ رکنی بنچ سے رجوع کیا تھا کیوں کہ اس مقدمہ میں قانون کا ایک اہم دستوری سوال اٹھایا گیا جو غیر امدادی تعلیمی اداروں کے حقوق کے بارے میں تھا ۔ درخواست گذاروں نے استدلال پیش کیا کہ ماضی میں دی گئی رولنگ میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ اس قسم کی مداخلت قانون حق تعلیم کی دفعات 14 ، (1)15 ، (1)19 ( جی ) اور 21 کی صریح خلاف ورزی ہوتی ہے ۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہوگا کہ سال 2009 کے دوران پارلیمنٹ نے قانون حق تعلیم مدون کیا تھا جس کی دفعہ 21A کے تحت 6 تا 14 سال عمر کے حامل بچوں کو مفت تعلیم فراہم کرنے کو یقینی بنایا

TOPPOPULARRECENT