Friday , December 15 2017
Home / شہر کی خبریں / قانون حق حصول اراضیات کے تحت کسانوں سے حصول اراضیات کے خلاف انتباہ

قانون حق حصول اراضیات کے تحت کسانوں سے حصول اراضیات کے خلاف انتباہ

اسپیکر اسمبلی تلنگانہ کو ماؤنواز کا مکتوب ، خفیہ ایجنسیاں مکتوب کا جائزہ لینے میں مصروف
حیدرآباد۔24اگسٹ (سیاست نیوز) ریاست میں ماؤنواز اپنی سرگرمیو ںکو تیز کر رہے ہیں یا اپنی موجودگی کا احساس دلوانے کی کوشش کر رہے ہیں۔؟ اسپیکر ریاستی اسمبلی مسٹر ایس مدھو سدن چاری کو ماؤسٹوں نے دھمکی جاری کرتے ہوئے انہیں کسانوں کی اراضیات کو قانون حق حصول اراضیات کے تحت حاصل کرنے کی کوششوں پر سخت انتباہ دیتے ہوئے مکتوب جاری کیا ہے اور محکمہ پولیس کے علاوہ خفیہ ایجنسیا ں ماؤسٹوں کی جانب سے تحریر کئے گئے اس مکتوب کے حقیقی ماؤسٹوں کی جانب سے تحریر کئے جانے کی تصدیق میں مصروف ہو چکی ہیں۔ ریاست تلنگانہ میں اوپن کاسٹ کانکنی کے خلاف ماؤسٹوں کی جانب سے جاری کردہ انتباہ میں اسپیکر ریاستی اسمبلی کے علاوہ ان کے دوفرزندان کو بھی دھمکی دی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ بھوپال پلی حلقہ اسمبلی میں جاری سنگارینی کالریز کی اوپن کاسٹ مائننگ کو فوری بند کیا جائے اور کسانوں کی حاصل کردہ اراضیات کو واپس حوالہ کیا جائے۔ مبینہ طور پر ماؤسٹوں کی جانب سے جاری کردہ اس انتباہی مکتوب میں ماؤسٹوں نے تفصیلات سے واقف کرواتے ہوئے کہا کہ سابق میں پہلے مرحلہ کے دوران1500 ایکڑ اراضی حاصل کرتے ہوئے کانکنی کا عمل شروع کیا گیا تھا جس میں بدعنوانیاں منظر عام پر آئیں اور اس وقت اپوزیشن میں موجود تلنگانہ راشٹر سمیتی نے بدعنوانیوں کے مرتکبین کے خلاف کاروائی کا مطالبہ کیا تھا لیکن اب جبکہ ٹی آر ایس کو اقتدار حاصل ہوئے 3برس کا عرصہ ہو چکا ہے جن 8افراد کے خلاف مقدمات درج کئے گئے تھے ان میں کسی کی بھی گرفتاری عمل میں نہیں آئی اور حکومت خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ بتایا جاتاہے کہ اسپیکر ریاستی اسمبلی مسٹر ایس مدھو سدن چاری جو کہ حلقہ اسمبلی بھوپال پلی کی نمائندگی کرتے ہیں اسی لئے انہیں دھمکی دی گئی ہے۔ علاوہ ازیں بتایا جاتا ہے کہ موجودہ حکومت کی جانب سے بھی اس علاقہ میں ہزاروں ایکڑ کسانوں کی اراضی کانکنی کی غرض سے حاصل کی جا رہی ہے اور ماؤسٹوں کا کہنا ہے کہ کانکنی کے بعد یہ اراضی ناقابل استعمال ہوجاتی ہے اسی لئے فوری ان اراضیات کو واپس کرنے کے اقدامات کئے جانے چاہئے ۔ اسپیکر اسمبلی کے نام جاری کردہ ماؤسٹوں کے اس مکتوب کو ریاستی حکومت کی خفیہ ایجنسیوں کی جانب سے سنجیدگی سے لیا جارہاہے کیونکہ تشکیل تلنگانہ کے بعد ریاست میں پہلی مرتبہ کسی سیاسی قائد کو ماؤسٹ تحریک کے سرکردہ قائدین کی جانب سے دھمکی دی گئی ہے جو کہ ریاست میں ماؤسٹ سرگرمیوں کے فروغ حاصل کرنے کا اشارہ بھی دیتی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ اسپیکر اسمبلی کو جو دھمکی دی گئی ہے وہ سیکریٹری ریجن کریم نگر ۔کھمم۔ورنگل کی جانب سے جاری کی گئی ہے۔ محکمہ پولیس کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ اب کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (ماؤسٹ) میں صرف 140افراد موجود ہیں جو کہ آندھرا پردیش اور تلنگانہ کے ہیں لیکن ان میں بیشتر چھتیس گڑھ کے جنگلات میں روپوشی اختیار کئے ہوئے ہیں لیکن اس کے باوجود بھوپال پلی کے کانکنی کے مقامات پر اسپیکر اسمبلی کو دھمکی دیئے جانے پر محکمہ پولیس اور انٹیلیجنس ایجنسیوں میںتشویش کی لہر پیدا ہو چکی ہے۔

TOPPOPULARRECENT