Sunday , September 23 2018
Home / شہر کی خبریں / قانون ساز کونسل سے معطلی پر محمد علی شبیر کا احتجاج

قانون ساز کونسل سے معطلی پر محمد علی شبیر کا احتجاج

حکومت پر اپوزیشن کی آواز دبانے کا الزام، مسلسل ارکان کا ایوان کے احاطہ میں دھرنا

حیدرآباد۔13مارچ(سیاست نیوز) تلنگانہ قانون ساز کونسل میں موجود کانگریس کے 6ارکان قانون ساز کونسل بشمول قائد اپوزیشن جناب محمد علی شبیر کو بجٹ سیشن اجلاس تک کیلئے معطل کردیا گیا۔ تلنگانہ قانون ساز کونسل کے اجلاس کے آغاز کے ساتھ ہی ڈپٹی چیف منسٹر مسٹر کڈیم سری ہری نے اپوزیشن ارکان قانون ساز کونسل کو جاریہ بجٹ سیشن تک کے لئے معطل کرنے کی تحریک پیش کی جس کی حکومت کی بنچوں کی جانب سے تائید کے ساتھ ہی اجلاس کی صدارت کر رہے نائب صدر نشین مسٹر این ودیا ساگر نے کانگریس کے تمام ارکان قانون ساز کونسل کی معطلی کا اعلان کردیا جس کے ساتھ ہی قائد اپوزیشن جناب محمد علی شبیر کی قیادت میں ارکان قانون ساز کونسل نے احتجاج شروع کردیا اور مطالبہ کرنے لگے کہ انہیں کس لئے معطل کیا جا رہاہے اور کس قانون کے تحت معطل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے اس کی وضاحت کی جائے۔مسٹر کڈیم سری ہری نے گذشتہ یوم اسمبلی و کونسل کے مشترکہ اجلاس میںگورنر کے خطبہ کے دوران کی جانے والی ہنگامہ آرائی اور صدرنشین قانون ساز کونسل کے ساتھ ناروا سلوک اور ان کے زخمی ہونے کے سبب کانگریس ارکان کو معطل کیا جا رہا ہے اور یہ فیصلہ ایوان کا ہے۔ معطلی کے خلاف جناب محمد علی شبیر ‘ مسٹر راجگوپال‘ مسٹر سدھاکر ریڈی ‘ مسز آکولہ للیتا اور دیگر نے احتجاج شرع کیا جس پر نائب صدرنشین کونسل مسٹر این ودیا ساگر راؤ نے مارشلس کو طلب کرتے ہوئے معطل ارکان کو ایوان سے باہر نکال دیا گیا ۔معطل ارکان نے باہر نکالے جانے پر ایوان کے احاطہ میں دھرنا شروع کردیا اور حکومت پر الزام عائد کیا کہ حکومت اپوزیشن کی آواز کو دبانے کے لئے بجٹ سیشن کے اجلاس سے اپوزیشن ارکان کو معطل کر رہی ہے ۔ معطل کئے گئے ارکان نے کہا کہ ایوان کے مشترکہ اجلاس اور گورنر کے خطبہ کے دوران ہوئی ہنگامہ آرائی پر اس طرح کاروائی مناسب عمل نہیں ہے بلکہ اپوزیشن ارکان کی معطلی اور بجٹ اجلاس کو جاری رکھنے کے اقدامات سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ حکومت کی جانب سے عوامی مسائل پر مباحث کے بجائے عوام کو گمراہ کرنے کے کوشش کی جائے گی۔ احاطہ قانون ساز کونسل میں دھرنا دینے والے معطل ارکان قانون ساز کونسل نے کچھ دیر دھرنا منظم کرتے ہوئے حکومت پر من مانی کا الزام عائد کیا اور کہا کہ حکومت کی جانب سے کی جانے والی کاروائی قانون کے خلاف ہے اور اس طرح کی کاروائیوں کے ذریعہ ریاست کے عوام میں پھیلنے والی ناراضگی پر حکومت قابو حاصل نہیں کرسکتی۔

TOPPOPULARRECENT