Wednesday , December 12 2018

قانون عدالتی تقررات کمیشن کی تنسیخ کی اپیل

نئی دہلی۔ 6 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) سپریم کورٹ نے عدالتی تقررات کے قومی کمیشن قانون کی تنسیخ کیلئے دائر کردہ درخواست پر فی الفور سماعت کرنے سے انکار کردیا ہے۔ اس کمیشن کے ذریعہ ججوں کی جانب سے اپنے طور پر اعلیٰ عدلیہ کے لئے ججوں کے تقررات کے کالیجیم طریقہ کار کا خاتمہ ہوگیا تھا۔ چیف جسٹس ایچ ایل دتو کی زیرقیادت ایک تین رکن بینچ نے کہا ک

نئی دہلی۔ 6 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) سپریم کورٹ نے عدالتی تقررات کے قومی کمیشن قانون کی تنسیخ کیلئے دائر کردہ درخواست پر فی الفور سماعت کرنے سے انکار کردیا ہے۔ اس کمیشن کے ذریعہ ججوں کی جانب سے اپنے طور پر اعلیٰ عدلیہ کے لئے ججوں کے تقررات کے کالیجیم طریقہ کار کا خاتمہ ہوگیا تھا۔ چیف جسٹس ایچ ایل دتو کی زیرقیادت ایک تین رکن بینچ نے کہا کہ ’’اس میں عجلت کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ معمول کے مطابق اس پر سماعت ہوگی‘‘۔ ایک سینئر ایڈوکیٹ بھیم سنگھ نے درخواست دائر کرتے ہوئے اس مسئلہ پر فوری سماعت کی استدعا کی تھی۔ سپریم کورٹ میں گزشتہ روز دائر کردہ ایک درخواست میں عدالتی تقررات کے قومی کمیشن قانون کی قانونی حیثیت اور دستوری جواز کو چیلنج کیا گیا تھا۔ اس مسودہ قانون کو صدرجمہوریہ پرنب مکرجی نے بمشکل ایک ہفتہ قبل منظوری دی تھی۔ ایڈوکیٹ بھیم سنگھ جو جموں و کشمیر نیشنل پینتھرس پارٹی کے سربراہ بھی ہیں، 2014ء کے اس قانون کو غیرقانونی اور غیردستوری قرار دیا ہے۔ انہوں نے استدلال پیش کیا کہ اس قانون سے اعلیٰ عدلیہ میں ججوں کے تقررات کے ضمن میں عاملہ کو مزید غلبہ و تسلط حاصل ہوجائے گا اور چیف جسٹس آف انڈیا کی سفارش محض ایک تجویز و مشورہ کی حد تک گھٹ جائے گی۔

TOPPOPULARRECENT