Friday , November 24 2017
Home / اداریہ / قانون و انصاف

قانون و انصاف

قانون و انصاف
دہلی ہائیکورٹ نے 16 ڈسمبر 2012ء کو چلتی بس میں 23 سالہ لڑکی کی اجتماعی عصمت ریزی کے گھناونے جرم میں ملوث ایک کمسن کی رہائی پر حکم التوا جاری کرنے سے انکار کردیا۔ اس کیس میں ملوث دیگر 4 مجرمین کو تحت کی عدالت نے سزائے موت سنائی ہے۔ دہلی ہائیکورٹ نے ان مجرمین کی سزائے موت کو برقرار رکھا۔ تاہم اب یہ کیس سپریم کورٹ میں زیرسماعت ہے۔ اصل مسئلہ کمسن مجرم کی رہائی ہے کہ جرم کے ارتکاب کے وقت 18 سالہ لڑکا پہلے ہی 3 سال کی سزاء کاٹ چکا ہے جس کی مدت 20 ڈسمبر 2015ء کو ختم ہورہی ہے۔ کمسن مجرمین انصاف قانون کی دفعہ 15 (1) کے تحت کسی کمسن کو سزاء دی جاتی ہے تو یہ صرف 3 سال کی ہوگی۔ موجودہ قانون اس کمسن مجرم کو مزید محروس رکھنے کی اجازت نہیں دیتا لیکن انصاف اور قانون سے امید رکھنے والوں نے خاص کر عصمت ریزی کا شکار متوفی لڑکی 23 سالہ جیوتی سنگھ کی والدہ آشا سنگھ نے دہلی ہائیکورٹ کے فیصلہ کو مایوس کن قرار دیا۔ اس فیصلہ سے عوام تک غلط پیام جائے گا۔ جو لوگ انصاف کے حصول کیلئے لڑ رہے ہیں انہیں محسوس ہوگا کہ اس کیس میں جرم کی جیت ہوئی ہے۔ قانون نے ہار مان لی۔ جن سیاستدانوں نے عصمت ریزی واقعہ کے دن اور بعد کے دنوں میں جتنا شور مچایا تھا اب وہ بھی خاموش ہیں۔ سیاسی طبقہ نے متاثرہ خاندان کو انصاف دلانے کا وعدہ کیا تھا۔ بے شمار ہمدردیاں دکھائی گئی تھیں لیکن اب یہ سب سیاسی کھیل ثابت ہورہا ہے۔ ایسے واقعات پر اگر سیاستداں اپنی سیاسی چالیں چلتے رہیں گے تو ملک میں جرائم کی شدت میں اضافہ ہونا یقینی ہوجائے گا۔ ملک میں آئے دن عصمت ریزی کے واقعات سے ہزاروں لڑکیاں متاثر ہوتی ہیں۔ اس کیس میں مسلسل 3 سال کی جدوجہد کے باوجود متاثرہ خاندان کے حصہ میں ناانصافی ہی آئی ہے۔ جب قانون اور عدلیہ کی وجہ سے مجرم آزاد ہوجائیںگے تو آنے والے وقتوں میں اس ملک کا ماحول کیا ہوگا یہ سوچ کر ان والدین کو تشویش ہوتی ہوگی جو حصول انصاف کے لئے برسوں سے عدالتوں کے چکر کاٹ رہے ہیں۔ دہلی ہائیکورٹ نے کمسن مجرم کے تعلق سے اپنے فیصلہ کے ذریعہ بڑے گھناونے جرم کو ایک کوزے میں سمو دیا ہے۔ اس سے عوام کو دھکہ پہنچے گا۔ تمام ملکوں میں کریمنل جسٹس سسٹم کی بنیاد لائیٹ ٹوفیر ٹرائیل یعنی مقدمے کی منصفانہ پیروی پر ہوتی ہے۔ کمسن مجرم کے تعلق سے جس دفعہ کے حوالے سے عدالت نے مجرم کی رہائی کو روکنے کے حکم التواء سے انکار کیا ہے اس سے کئی متاثرین کو یہ سوچنے پر مجبور کیا ہے کہ کمسن مجرم کے نام پر آئندہ کتنے جرم ہوں گے۔ اس نربھئے کیس سے وابستہ وکیل نے دہلی ہائیکورٹ کے فیصلہ کو ملک بھر کیلئے دھکہ قرار دیا ہے۔ دہلی کمیشن برائے خواتین نے چیف جسٹس دہلی ہائیکورٹ، سپریم کورٹ اور صدرجمہوریہ سے اپیل کرنے کا فیصلہ کیا کہ اس گھناونے جرم کے خاطی کو رہا نہ کیا جائے۔ دہلی ہائیکورٹ نے جس کمسن مجرم کے قانون کا حوالہ دیا ہے اس کا کیس میں اطلاق نہیں ہوتا کیونکہ اب یہ مجرم 20 سال کا ہوچکا ہے۔ جرم کے ارتکاب کے وقت 2012ء میں وہ کمسن لڑکا تھا اور عدالت نے اس کو عصمت ریزی کا مرتکب و خاطی پایا تھا۔ اس کے پانچ ساتھیوں میں سے اصل مجرم 35 سالہ رام سنگھ 2013ء کو تہاڑ جیل کے سیل میں مردہ پایا گیا تھا۔ اترپردیش سے تعلق رکھنے والی متوفی لڑکی جیوتی سنگھ کے والدین کا کہنا غور طلب ہے دہلی ہائیکورٹ کے فیصلہ سے وہ تمام کمسن یہ خیال کریں گے کہ وہ جو چاہے کرسکتے ہیں اور انہیں کچھ نہیں ہوگا۔ اس طرح کے قانون سے سماجی اصلاحات کا مقصد فوت ہوجاتا ہے۔ مرکز کی مودی حکومت اور ان کی وزیر برائے خواتین و اطفال بہبود مینکا گاندھی نے اس لڑکے پر کڑی نظر رکھنے کی ضرورت ظاہر کی ہے تاکہ یہ لڑکا آئندہ اس سے خطرناک عمل نہ کرے مگر اس کی کون ضمانت دے گا کہ دہلی ہائیکورٹ کے فیصلہ کے بعد جرائم نہیں ہوں گے۔ جرائم تو ہر وقت ہر جگہ کہیں نہ کہیں کسی بھی شکل میں ہوتے ہیں۔ قانون کا خوف پیدا کرنا قانون کے رکھوالوں کا کام ہے لیکن ہندوستانی قانون اور عدلیہ میں اصلاحات لانے کی بات کرنے والوں نے جرائم کے بڑھتے گراف پر توجہ نہیں دی ہے۔ اگر جرائم پر قابو پانے کی ضرورت شدت سے محسوس ہورہی ہے تو سب سے پہلے قانون اور انصاف کے حصول کے خواہاں افراد کو مایوس نہیں کیا جانا چاہئے۔
کلمہ طیبہ لکھوانے پر تنازعہ افسوسناک
امریکہ میں مسلمانوں اور مساجد کے خلاف نفرت میں 3 گنا اضافہ اور ایک ماہ کے اندر درجنوں مخالف اسلام واقعات نے امریکی مسلمانوں کو بے چین کردیا ہے۔ ورجینیا کے ایک اسکول میں کلمہ لکھنے کی مشق کرانے پر احتجاج کے بعد اسکولوں کو بند کردیا گیا۔ حجاب کرنے والی خواتین کو نشانہ بنایا جاتا، مسلم ملکیت والی املاک کو نقصان پہنچانا عام ہوتا جارہا ہے۔ اس طرح کے واقعات خودامریکی سلامتی کیلئے خطرناک ہیں۔ امریکی صدارتی امیدوار ری پبلکن پارٹی کے ڈونالڈ ٹرمپ کے مسلمانوں کو امریکہ میں داخلے پر پابندی عائد کرنے کے ریمارکس کے بعد ہ خطرہ مزید بڑھنے کا اندیشہ ہے۔ امریکی محکمہ دفاع پنٹگان نے متنبہ کیا ہیکہ امریکہ کی قومی سلامتی کو سبوتاج کرنے کی کوشش کی جاسکتی ہے۔ مسلمانوں کے لئے سرحدیں بند کردینے سے انتہاء پسندی کے نظریات کے خلاف امریکہ کی کوشش کو بھی نقصان پہنچ سکتا ہے۔ اس وقت امریکہ ایک ایسے بارود کے ڈھیر پر بیٹھا ہے جس میں آگ خود اسکے اپنے شہری لگانے کی کوشش کررہے ہیں۔ امریکی سیاستدانوں کو ان حالات پر قابو پانے کی ضرورت ہے مگر ری پبلکن امیدوار کے ریمارکس کے بعد امریکی عوام کے نظریات کو بھی تبدیل ہوتا دیکھا جارہا ہے لیکن اس طرح کی نفرت انگیز مہم کو فوری روکنے کی ضرورت ہے۔ صدر بارک اوباما نے امریکہ کی قومی سلامتی کو لاحق خطرات پر ایک سے زائد مرتبہ تشویش ظاہر کی ہے اوردہشت گرد خطرہ سے متعلق عوام سے چوکس رہنے کی اپیل کی ہے تو آنے والے دنوں میں صورتحال کو مزید دھماکو ہونے سے بچانے کی کوشش ہے۔ امریکی سیکوریٹی ایجنسیوں نے حفاظتی انتظامات میں شدت پیدا کردی ہے۔ اس سے عوامی سلامتی کا مسئلہ ختم نہیں ہوگا۔ ہونا تو یہ چاہئے کہ امریکی معاشرہ میں پھیلائی جانے والی مخالف اسلام نفرت کی مہم کو ناکام بنایا جائے۔ اس کیلئے سرکاری سطح پر کوشش کرنے کے علاوہ معاشرتی حلقوں میں مخالف اسلام نظریہ کو ہوا دینے والی حرکتوں سے باز آجانے کی ترغیب دینی ہوگی۔ جن امریکیوں نے ڈونالڈ ٹرمپ کے بیان کی مذمت و مخالفت کی ہے ان کا کام یہ بھی ہیکہ وہ اپنے ملک کے مہذب معاشرہ کے اقدار کا تحفظ کریں۔ ڈونالڈ ٹرمپ کے بیان کو امریکی اقدار کے منافی سمجھنے والے ہی اسلام کے خلاف نفرت پھیلانے والوں کو روکنے کی کوشش کرسکتے ہیں۔ آج اسکولوں میں جغرافیہ کے ایک سبق میں اسلام کے موضوع پر بھی ٹیچر کچھ درس دیتا ہے تو اسے عقیدہ سکھانے کی کوشش قرار دے کر احتجاج کیا جارہا ہے تو واقعی امریکہ خطرناک تبدیلی کی جانب بڑھ رہا ہے۔

TOPPOPULARRECENT