Saturday , December 15 2018

قانون کے رکھوالوں نے یتیموں کا سہارا بھی چھین لیا

حیدرآباد ۔ 15 ۔ مئی : ( سیاست نیوز ) : قانون کے رکھوالوں نے یتیموں کا سہارا بھی چھین لیا ۔ بچے روتے تو وہ فوری آگے بڑھ کر ان کے آنسو پوچھتے ۔ یہ ہے شجاع الدین خطیب عرف توفیق ہے جنہیں پڑوسی اس طرح کے خیالات تھے ۔ ان یتیموں پر ایک نہیں بلکہ دو مرتبہ مصیبتوں کا پہاڑ ٹوٹ پڑا ہے کیوں کہ گذشتہ روز کشن باغ کے فساد میں جملہ 9 بچوں اور 2 خاندانوں کے و

حیدرآباد ۔ 15 ۔ مئی : ( سیاست نیوز ) : قانون کے رکھوالوں نے یتیموں کا سہارا بھی چھین لیا ۔ بچے روتے تو وہ فوری آگے بڑھ کر ان کے آنسو پوچھتے ۔ یہ ہے شجاع الدین خطیب عرف توفیق ہے جنہیں پڑوسی اس طرح کے خیالات تھے ۔ ان یتیموں پر ایک نہیں بلکہ دو مرتبہ مصیبتوں کا پہاڑ ٹوٹ پڑا ہے کیوں کہ گذشتہ روز کشن باغ کے فساد میں جملہ 9 بچوں اور 2 خاندانوں کے واحد کفیل شجاع الدین پولیس کی گولی کا شکار ہو کر اس دنیائے فانی سے کوچ کر گئے ۔ سال 2003 میں کشن باغ میں رونما اس طرح کے واقعہ میں اشرار نے شجاع الدین کے بہنوائی محمد افضل عرف صمد کو جسم کے 4 حصے کرتے ہوئے قتل کردیا تھا جس کے بعد شجاع الدین اپنی بیوہ بہن اور ان کے 5 بچوں کی مکمل کفالت کررہے تھے ۔ شجاع الدین کی کفالت میں ہیں اور ماضی کا غم بھلانے کی کوشش کررہے تھے لیکن ان پرایک اور مصیبت آپڑی ہے ۔ اس غمزدہ خاندان میں جب شجاع الدین کی بیوہ بہن سے ملاقات کی گئی تو انہوں نے کہا کہ کئی برس قبل شوہر کی ہلاکت کے بعد ان کے اور بھائی کے خاندان کے شجاع الدین واحد کفیل تھے اور آج وہ سودا لینے کے لیے گھر سے نکلے تھے کہ واپس ان کی لاش ہی گھر آئی ۔ پولیس کی گولی کا شکار ہونے سے نہ صرف شجاع الدین کی موت واقع ہوئی ہے بلکہ اس خاندان کے واحد ذمہ دار کا سایہ بھی ان یتیموں اور بیواؤں کے سر سے اٹھ چکا ہے ۔ پڑوسیوں کا کہنا ہے کہ پیشہ سے میستری ہونے کے باوجود شجاع الدین شریف النفس ، پنچگانہ نماز کے پابند اور اپنے خاندان کے افراد سے محبت سے پیش آنے والے شخص تھے ۔۔

TOPPOPULARRECENT