Tuesday , December 12 2017
Home / Top Stories / قانون کے مطابق گائے کی حفاظت کرنے والوں کو بھاگوت کی تائید

قانون کے مطابق گائے کی حفاظت کرنے والوں کو بھاگوت کی تائید

سرجیکل حملوں کیلئے فوج کی ستائش، ہندو پناہ گزینوں کو کشمیر کی شہریت دینے کا مطالبہ، آر ایس ایس سربراہ کا خطاب

ناگپور 11 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت نے گائے کے تحفظ کے لئے قانون کے مطابق کام کرنے والے بے شمار افراد کی آج بھرپور تائید کرتے ہوئے کہاکہ ان کا ان افراد کے ساتھ کوئی تقابل نہیں کیا جانا چاہئے جو ان (گاؤ رکھشکوں) کے نام پر گڑ بڑ پیدا کررہے ہیں۔ واضح رہے کہ بعض گاؤ رکھشکوں کی طرف سے دلتوں کے خلاف تشدد کے واقعات پر بی جے پی کو درپیش مصیبتوں کے پس منظر میں بھاگوت نے ریمارکس کئے ہیں۔ بھاگوت نے آر ایس ایس ہیڈکوارٹرس پر اس تنظیم کے یوم تاسیس پر خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ’’بے شمار افراد تحفظ گاؤ کے لئے کام کررہے ہیں۔ جین برادری اس کام کے لئے خود کو مکمل طور پر وقف کرچکی ہے۔ یہ افراد قانون اور دستور کے حدود میں کام کررہے ہیں۔ انتظامیہ کو یہ دیکھنا چاہئے۔ جو لوگ گاؤ رکھشا کے نام پر گڑ بڑ پیدا کررہے ہیں اُن کا گاؤ رکھشکوں سے تقابل نہ کیا جائے۔ ان دونوں کے درمیان فرق کیا جانا چاہئے۔ گڑبڑ پیدا کرنے والے اس فرق کو ختم کرنا چاہتے ہیں

اور بڑا ہنگامہ کھڑا کرنا چاہتے ہیں‘‘۔ گاؤ رکھشکوں کی جانب سے دلتوں اور مسلمانوں کو نشانہ بنائے جانے کے واقعات گزشتہ چند ہفتوں کے دوران اخبارات کی سرخیوں میں چھائے رہے جس کے نتیجہ میں وزیراعظم نریندر مودی کو بھی ان واقعات کی مذمت کرنا پڑا تھا۔ وزیراعظم نے کہا تھا کہ ان (نام نہاد گاؤ رکھشکوں) میں 80 فیصد غیر سماجی عناصر ہیں جو تحفظ گاؤ کے نام پر اپنی دکانیں چلارہے ہیں۔ بھاگوت نے مزید کہاکہ اگر ایسے واقعات پیش آتے ہیں تو حکومت کو چاہئے کہ وہ ان میں ملوث افراد کے خلاف قانون کا استعمال کرے۔ گجرات کے اونا ٹاؤن میں گاؤ رکھشکوں کی جانب سے چند دلتوں کو کوڑے لگائے جانے اور ایسے ہی دیگر واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے بھاگوت نے کہاکہ یہ شرمناک واقعات ہیں جنھیں کبھی بھی وقوع پذیر نہیں ہونا چاہئے۔ آر ایس ایس سربراہ نے کہاکہ ’’ہمارے سماج میں چند خامیاں ہیں اور تعصب و امتیاز بھی ہے جس کا بعض عناصر محض اپنے فائدوں کے لئے استحصال کیا کرتے ہیں‘‘۔ تاہم گائے کے تحفظ کی بھرپور حمایت کرتے ہوئے اُنھوں نے کہاکہ اس (گاؤ رکھشا) کی تائید میں دستور کی اُصولی ہدایات بھی ہیں اور کئی ریاستوں میں اس مقصد کے لئے قوانین موجود ہیں۔ اُنھوں نے واضح کیاکہ جانوروں پر مظالم اور بے رحمی کے انسداد کے لئے بھی قوانین موجود ہیں۔

گاؤ رکھشکوں کو چاہئے کہ ان قوانین کے نفاذ کے لئے پرامن احتجاج کریں۔ وہ قانون کے حدود میں کام کرنے کی کوشش کریں۔ بھاگوت نے اس عہد کا اظہار کیاکہ آر ایس ایس سماج میں موجود تفریق کو امتیاز کو جڑ سے اُکھاڑ پھینکنے میں کامیاب ہوگی۔ اُنھوں نے مدھیہ پردیش میں کئے گئے ایک سروے کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ اس ریاست میں ہنوز 30 تا 40 فیصد افراد پانی کے حصول اور مندروں میں داخلہ پر امتیازی سلوک سے متاثر ہورہے ہیں۔ بھاگوت نے کہاکہ حکومت جموں و کشمیر متعصب اور امتیاز پر مبنی طرز عمل اختیار کررہی ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ ’’جب حکومت جموں و کشمیر اور ریاستی انتظامیہ قوم پرستی کے احساس کے ساتھ صاف ستھرے، غیر جانبدار اور شفاف انداز میں کام کرے گا اس ریاست کے عوام میں فتح و اعتماد کا احساس پیدا ہوگا اور یہی احساس وادیٔ کشمیر کے عوام میں بھی پیدا ہوگا۔ بھاگوت نے جموں و کشمیر کی صورتحال کو باعث تشویش قرار دیا اور کئی مسائل معلق برآتش ہیں۔ آر ایس ایس کے سربراہ نے کہاکہ ’’تقسیم ہند کے دوران اور اس کے بعد پاکستانی مقبوضہ کشمیر سے جموں و کشمیر پہونچنے والے ہندو پناہ گزینوں کو شیخ عبداللہ نے ان تمام حقوق دینے کا وعدہ کیا تھا لیکن آج ان ہندو پناہ گزینوں کی تیسری پشت بھی یہ حقوق حاصل نہیں کرسکی ہے۔ اُنھیں ریاست کی شہریت نہیں ہے۔ حتیٰ کہ ان کے پاس راشن کارڈ یا روزگار بھی نہیں جس کے لئے وہ آخر کب تک انتظار کریں گے‘‘۔ موہن بھاگوت نے ہندوستانی فوج کی طرف سے کئے گئے سرجیکل حملوں کی ستائش کی اور کہاکہ اس کارروائی سے عالمی برادری میں ہندوستان کے وقار میں اضافہ ہوا ہے۔ نیز گڑبڑ پیدا کرنے والوں کو یہ پیغام گیا ہے کہ اس (ہندوستان) کے صبر کی بھی کوئی حد ہے۔ بھاگوت نے دسہرہ کے موقع پر اپنے سالانہ خطاب کے دوران سرحدی کشیدگی اور دیگر کئی مسائل پر تفصیلی اظہار خیال کیا۔ اُنھوں نے سرحدی چوکسی میں مزید اضافہ کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

TOPPOPULARRECENT