Saturday , November 25 2017
Home / مذہبی صفحہ / قبرستان میںآلاتِ دفن کے لئے کمرہ بنانا

قبرستان میںآلاتِ دفن کے لئے کمرہ بنانا

سوال : کیافرماتے ہیں علماء دین اس مسئلہ میںکہ بھارت نگربورابنڈہ میںایک قبرستان ہے جس میں ایک بہت بڑی چٹان ہے جس میں قبورنہیںکھودسکتے۔ حکومت کی جانب سے قبرستان کیلئے نگران کاراورسامان رکھنے کیلئے کمرہ بنانے کی منظوری ملی ہے۔ ایسی صورت میںقبرستان کی اس چٹان پرایسے کمرہ کی تعمیردرست ہے یانہیں؟
جواب: قبرستان کی اراضی تدفین اموات کیلئے وقف رہتی ہے ۔آج کے دورمیںچٹان کوصاف کرکے زمین کوقابل تدفین بناناممکن ہے۔ تاہم قبرستان کی زمین میںآلات ِدفن اورنگران کارکیلئے کمرے کی تعمیراس شرط کے ساتھ جائزہے کہ تدفین کی جگہ تنگ ہوجائے توعمارت منہدم کرکے تدفین کی جائے۔ الاسعاف فی احکام الاوقاف ص۶۶ میںہے: لواتخذأھل قریۃ أرضالھم مقبرۃوقبروافیھاثم بنی فیھاواحد منھم بیتا لوضع اللبن وآلۃ الدفن وأجلس فیہ من یحفظ الامتعۃ بغیررضاأھل القریۃ أوبرضابعضھم فقط لابأس بہ ان کان فی المقبرۃ سعۃ بحیث لایحتاج الی ذلک المکان ولواحتاجوا الیہ یرفع البناء لیدفن فیہ۔ لہذاحسب صراحت حکم بالابھارت نگربورابنڈہ کے قبرستان میںموجودچٹان پرسوال میںمذکورغرض سے کمرے کی تعمیرکی جاسکتی ہے۔
فنِ خطاطی
سوال : کیافرماتے ہیں علماء دین اس مسئلہ میں کہ زید کوفن خوشنویسی ،خوردنویسی اورمنظرکشی کا شوق ہے، چنانچہ وہ چاول ،رائی ،اورخشخاش کے دانوںنیزمختلف جانوروںکے بال پرمختلف عبارتوںکوتحریر کرنے میںبڑی حدتک کامیابی حاصل کرلی ہے۔اب سوال یہ ہے کہ گائے ،بیل ،بکری،گھوڑا،بلی ، خرگوش، ریچھ، چیتا، شیروغیرہ کے بال یاانکی مونچھ داڑھی یاپلک کے بال پرتکبیرتحریمہ ،کلمہ طیبہ یاآیات قرآنیہ لکھناجائز ودرست ہے یانہیں۔؟بینواتوجر وا
جواب : صورت مسئول عنہامیں مذکورہ جانورکے بال پاک ہیںلہذاان پرکتابت آیات قرآنیہ کلمہ طیبہ میںشرعااگرچہ کوئی گناہ نہیںتاہم یہ صرف خطاطی کاکمال ہوگااس سے عوام کوکوئی فائدہ نہیں۔ قرآن کریم کوواضح قابل قراء ت اورخوشخط لکھناچاہئے ۔وینبغی لمن أرادکتابۃالقرآن أن یکتبہ بأحسن خط وأبینہ عالمگیری جلد۵ص۳۲۳۔
جبراًنکاح نامہ پردستخط لینا
سوال : کیافرماتے ہیںعلماء دین اس مسئلہ میںکہ بکرنے ہندہ سے جبراًنکاح نامہ پردستخط لے لی جبکہ ہندہ کوقطعاخبرنہ تھی کہ وہ نکاح نامہ ہے،واضح رہے کہ ہندہ اوربکرکے درمیان ایجاب وقبول نہیںہوا۔ایسی صورت میںدونوںمیںنکاح منعقدہوایانہیں؟بکرہندہ سے نکاح کادعوی کررہاہے۔ شرعاکیاحکم ہے؟
جواب : شرعانکاح ایجاب وقبول کے بغیرمنعقدنہیںہوتا۔ عالمگیری جلداول کتاب النکاح ص۲۶۷میںہے (وأمارکنہ) فالایجاب والقبول کذافی الکافی والایجاب مایتلفظ بہ اولاً من أی جانب کان والقبول جوابہ ھکذافی الغایۃ۔ پس بشرط صحت سوال صورت مسئول عنہامیںہندہ سے لاعلمی میںنکاح نامہ پردستخط لی گئی ہے اوربکراورہندہ میں ایجاب وقبول ہوا ہی نہیں تو بکر اورہندہ میںنکاح منعقدنہیںہوا۔ بکرکادعوی باطل ہے۔

TOPPOPULARRECENT