Tuesday , September 25 2018
Home / مذہبی صفحہ / قبرستان میں نماز جنازہ

قبرستان میں نماز جنازہ

سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ کسی مسجد کے تحت ایک وسیع قبرستان ہے اس میں نماز جنازہ اداکی جاسکتی ہے ۔لیکن شرعی نقطۂ نظرسے قبرستان میں نمازجنازہ کا اداکرنا درست ہے یانہیں؟ بینوا تؤجروا
جواب: شرعًا نماز جنازہ چونکہ اور نمازوں کی طرح فرض عبادت ہے اس لئے طہارۃ مکان جس طرح نماز پنجگانہ کیلئے شرط ہے اسی طرح نماز جنازہ کیلئے بھی شرط ہے ۔ مقبرہ میں ہر قسم کی نماز پڑھنا مکروہ ہے ۔
اسی لحاظ سے نماز جنازہ بھی قبرستان میں مکروہ ہے ۔ عینی شرح بخاری جلد۲ صفحہ۳۵۱ باب ما یکرہ الصلاۃ فی القبور میں ہے ۔ ’’ و ذھب الثوری و ابو حنیفۃ و الاوزاعی الی کراھۃ الصلاۃ فی المقبرۃ” ۔ بدائع و صنائع جلد ۱ صفحہ ۵۱۱ کتاب الصلاۃ فصل شرائط الارکان میں ہے۔ وقد روی عن ابی ھریرۃ عن النبی صلی اﷲ علیہ وسلم انہ نھی عن الصلاۃ فی المزبلۃ والمجزرۃ ومعاطن الابل وقوارع الطریق والحمام والمقبرۃ۔ عینی شرح بخاری کی جلد۲ صفحہ ۳۶۹میں ہے ’’ عن ابی سعید الخدری قال قال رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم ’’ الارض کلھا مسجدا الاالمقبرۃ والحمام ‘‘ درمختار مطبوعہ برحاشیہ رد المحتار جلداول کتاب الصلاۃ میں ہے : وکذا تکرہ فی اماکن کفوق الکعبۃ وفی طریق ومزبلۃ ومجزرۃ ومقبرۃ۔
اور ممانعت کی وجہ بعض علماء نے یہ بتائی کہ مقبرے عموما نجاستوں سے خالی نہیں ہوتے کیونکہ جاہل لوگ قبروں کی آڑ میں رفع حاجت کرتے ہیں ایسی حالت میں وہاں نماز مناسب نہیں ۔
اوربعض نے یہ کہاہے کہ اموات کی حرمت وعزت کے خیال سے وہاں نمازمکروہ ہے۔ عینی کی اسی جلد میں صفحہ ۲۵۳ میں ہے : حکی اصحابنا اختلافا فی الحکمۃ فی النھی عن الصلاۃ فی المقبرۃ فقیل المعنی فیہ ماتحت مصلاہ من النجاسۃ ۔ اسی جگہ ہے : والذی دل علیہ کلام القاضی ان الکراھۃ لحرمۃ الموتی۔
البتہ اگرمقبرہ میں کوئی ایسی پاک جگہ ہے کہ جہاں نجاست وغیرہ نہ ہو اوراس میں کوئی قبر بھی نہ ہو اورنمازیوں کے سامنے بوقت نماز کوئی قبر بھی نہ آئے تو وہاں نمازپڑھنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔رد المحتارجلداول صفحہ ۲۸۷کتاب الصلاۃ میں ہے : ’’ ولا باس بالصلاۃ فیہا اذاکان موضع اعد للصلاۃ ولیس فیہ قبرولانجاسۃ کمافی الخانیۃ ولاقبلتہ قبر ۔حلیۃ۔‘‘
احادیث صحیحہ میں اگرچہ یہ ثابت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض اموات کے دفن کے بعد ان کی قبرپرتشریف لیجاکرنماز پڑھی ہے جس سے مقبرہ میں نماز پڑھناثابت ہوتاہے۔
اسی طرح اگرکوئی میت بلانماز کے دفن کردی جائے تو اس کی قبرپرتین دن تک نماز پڑھنا درست ہے، جس سے مقبرہ میں نماز جنازہ پڑھنے کی اجازت ثابت ہوتی ہے۔مگرایسا بربناء ضرورت ہے ۔ کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا کسی کی نماز جنازہ پڑھنا رحمت تھا اس لئے آپ نے بعض میت کے نماز پڑھاکردفن کئے جانے کے بعد بھی ان کی قبرپر نماز پڑھی ہے اوریہ فرمایا کہ میری نماز رحمت ہے ۔ اوربلا نماز کے دفن کئے جانے کی صورت میں توبربناء ضرورت قبرپرنماز پڑھناضروری ہے تاکہ ایک کی میت بلانماز جنازہ نہ رہ جائے ۔ اورفقہ کا کلیہ ہے کہ الضرورۃ تبیح المحظورات۔
فقط واﷲأعلم

TOPPOPULARRECENT