Saturday , November 18 2017
Home / شہر کی خبریں / قبل از وقت کاروں کی خریداری، عظیم تر بلدیہ حیدرآباد کا فیصلہ

قبل از وقت کاروں کی خریداری، عظیم تر بلدیہ حیدرآباد کا فیصلہ

نئے گاڑیوں کی خریداری کیلئے 3.84 کروڑ روپئے کا تخمینہ ، قدیم گاڑیاں ناقابل استعمال، بلدیہ کے فیصلے پر مختلف گوشوں سے تنقید
حیدرآباد ۔22 جولائی (سیاست نیوز) جی ایچ ایم سی نے قبل از وقت کاریں خریدنے کا فیصلہ کیا ہے اور ان کاروں کی خریداری کیلئے تقریباً 3.84 کروڑ کا تخمینہ لگایا گیا ہے اور اس فیصلہ کو اسٹانڈنگ کمیٹی نے بھی منظوری دیدی ہے۔ حالیہ مستعملہ کاریں استعمال کے قابل ہیں یا نہیں؟ عہدیداران کا کہنا ہیکہ یہ کاریں استعمال کے لائق نہیں ہیں۔ 2006-07ء میں جی ایچ ایم سی بننے سے پہلے ایم سی ایچ نے جدید بولیرو، اسکارپیو او ر انووا کاریں خریدی تھیں اور دو انووا کاروں میں سے ایک کمشنر اور دوسری میئر کیلئے مختص کی گئی تھیں اور بقیہ کاروں کو بالترتیب درجہ کے حساب سے انجینئرس اور شعبہ مالیات کے عہدیداران کیلئے مختص کی گئی تھیں اور ان کاروں کو خرید کر صرف 10-11 برس ہی ہوئے ہیں جبکہ محکمہ ٹرانسپورٹ کے قواعد کے مطابق ہر ایک کار کی عمر 15 برس ہے اس کے باوجود قبل از وقت کاریں خریدنے کے جی ایچ ایم سی کے فیصلہ پر مختلف گوشوں سے تنقیدیں کی جارہی ہیں۔ فی الحال جی ایچ ایم سی مالی مشکلات سے دوچار ہے اور چند دن قبل ملازمین کی تنخواہیں ادا کرنے بجٹ نہ ہونے کی وجہ سے فکسڈ ڈپازٹت ڈرا کئے گئے۔ جی ایچ ایم سی پراجکٹس کے نام قرضوں میں ڈوبی ہوئی ہے۔ ان مشکل حالات میں اسٹانڈنگ کمیٹی کی جانب سے جدید کاریں خریدنے کا فیصلہ تنقید کا نشانہ بنا ہوا ہے۔ جی ایچ ایم سی کے پاس دو انووا، 24 اسکارپیو، 60 بولیرو کاریں موجود ہیں۔ اس سے قبل استعمال کی جانے والی جیپیں اب استعمال نہیںکی جارہی ہیں۔ 100-80 تک کرایہ کی کاریں استعمال کی جارہی ہیں اور ماہانہ ان کاروں کا کرایہ 14 کروڑ روپئے ہے اور ان کاروں میں زیادہ تر کاریں عہدیداران کی ذاتی ہیں جو کرایہ کی بتا کر ماہانہ 34 ہزار روپئے کرایہ کی شکل میں حاصل کررہے ہیں۔ سابقہ ایام میں جی ایچ ایم سی نے بیروزگار افراد کو کاریں حوالہ کرکے انہیں کاروں کو کرایہ پر حاصل کرکے روزگار سے جوڑا تھا مگر عہدیداران نے ان بیروزگاروں کو دی گئی صرف چند کاروں کا ہی استعمال کررہے ہیں کیونکہ ان تمام کاروں کو استعمال کرنے سے ان کی ذاتی کاریں جن کے ذریعہ وہ کرایہ حاصل کررہے روک دی جائیں گی اور جی ایچ ایم سی بعض ایسے ملازمین کو بھی کاریں دے رہی ہے جو قوانین و ضوابط کے مطابق کاریں استعمال نہیں کرسکتے اور اس عمل کیلئے ٹرانسپورٹ ڈپارٹمنٹ کو ہر ماہ 3 ہزار روپئے ادا کرنے کا چرچا بھی ہے۔

TOPPOPULARRECENT