Saturday , January 20 2018
Home / شہر کی خبریں / قبل و مابعد اقتدار بی جے پی قائدین کے نفرت انگیز بیانات

قبل و مابعد اقتدار بی جے پی قائدین کے نفرت انگیز بیانات

حیدرآباد ۔ 10 ۔ دسمبر : ( سیاست نیوز ) : عظیم جمہوری ملک ہندوستان کو نہ جانے کس کی نظر لگ گئی کہ ہر طرف نفرت اور بے چینی کے ماحول کو پیدا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ اقتدار سے قبل اور اب اقتدار کے بعد بی جے پی قائدین کے نفرت انگیز بیانات ملک کی سیکولر ساکھ کے لیے خطرناک ثابت ہوتے جارہے ہیں ۔ اقتدار سے قبل عوامی اجلاسوں اور اب اقتدار کے بعد ا

حیدرآباد ۔ 10 ۔ دسمبر : ( سیاست نیوز ) : عظیم جمہوری ملک ہندوستان کو نہ جانے کس کی نظر لگ گئی کہ ہر طرف نفرت اور بے چینی کے ماحول کو پیدا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ اقتدار سے قبل اور اب اقتدار کے بعد بی جے پی قائدین کے نفرت انگیز بیانات ملک کی سیکولر ساکھ کے لیے خطرناک ثابت ہوتے جارہے ہیں ۔ اقتدار سے قبل عوامی اجلاسوں اور اب اقتدار کے بعد ایوان میں تک اپنی نفرت کا اثر چھوڑنے کا ان قائدین کوئی موقع گنوانا نہیں چاہتے مختلف مذاہب کا گلدستہ اور امن کا گہوارہ اس ملک کو سیاسی آلودگی متاثر کرنے کے در پر آگئی ہے ۔ اور ملک کو اس سیاسی آلودگی سے روکنے کے لیے ہر سیکولر شہری کو آگے آنا چاہئے اور یہ وقت کی ضرورت بھی ہے اور تقاضہ بھی ۔ بی جے پی قائدین نے چناؤ مہم میں نفرت پھیلانے کی ایسی مثالیں قائم کیں جس سے کہ سیکولر اقتدار شرمندہ ہوجائے ۔ سیاسی برتری اور اپنے وجود کو برقرار رکھنے کے لیے کبھی تو کبھی سیاسی آقاؤں کو خوش کرنے کی دوڑ میں نفرت انگیز بیانات میں بازی ماری جارہی ہے ۔ حالانکہ سب کے سب سیکولر ملک اور سیکولر اقتدار کی دہائی اور دعویٰ بھی کرتے ہیں ۔ سیاست میں مذہب کو شامل کرتے ہوئے اپنی کرسی اور وجود کو برقرار رکھنے کا یہ ماحول یقینا خطرناک رجحانات کو پیدا کررہا ہے اور نفرت انگیز تقاریر اور جوابی تقاریر ایک رواج کی شکل اختیار کرتی جارہی ہے ۔ جس کو روکنا انتہائی ضروری اور اہم عمل بن گیا ہے اور تعجب ہے کہ ایسے ہی لوگ اقتدار کی ان بلندیوں پر فائز ہورہے ہیں جو ملک کے مقاصد اور قانون کا لحاظ نہیں رکھتے اور اس عظیم سیکولر ملک کے ایوانوں کو بھی آلودہ کررہے ہیں ۔ سادھوی نرنجن کا بیان رام زادے کی حکومت یا حرام زادے کی حکومت نے نہ صرف ایوان کی حرمت کو پامال بنادیا بلکہ سبھی سیکولر اقتدار طاقتوں کے لیے لمحہ فکر بن گیا ہے ۔ حالانکہ ایسے بیان پر معافی بھی مانگی گئی لیکن اپوزیشن بھی ایسے موقع کیسے گنوا سکتی ہے جس سے برسر اقتدار جماعت کو گرایا جاسکے ۔ نتیجہ عوامی مسائل توجہ کا مرکز نہیں بنتے ۔ اب ایک اور مرکزی وزیر نے بھگوت گیتا کو قومی کتاب قرار دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے ایک تنازعہ پیدا کردیا ہے ۔ کبھی گیری راج تو کبھی ورون گاندھی تو کبھی ایک اور قائد سوامی کوئی نظر اٹھانے کے خلاف تو کوئی انگلی اٹھانے کے خلاف ہاتھ کاٹنے کی دھمکی شر انگیزی نفرت آمیز تقاریر سیاسی وجود کے لیے ضروری تصور کرنے والے ملک اور عوام کی بھلائی پر توجہ دینے سے قاصر ہے ۔ آج ایچ ایم ٹی وی پر تلگو زبان میں ایک خصوصی پروگرام کے دوران ان خیالات کا اظہار کیا گیا ۔

سادھوی نرنجن سے لے کر پروین توگاڑیہ تک اب سشما سوراج سے لے کر گیری راج تک ادھر اعظم خاں اور ادھر اکبر اویسی اسد اویسی کی تقاریر ، دانشوروں کی نظر میں ملک کی سالمیت کے لیے خطرہ بنتی جارہی ہیں ۔ نرمل میں اکبر الدین اویسی کی تقریر جس میں 25 کروڑ مسلمانوں کے جواب کا تذکرہ کیا گیا اور اس کے جواب میں توگاڑیہ نے گجرات میں پولیس کی موجودگی کے باوجود نقصانات کا حوالہ دیا ۔ اور پھر اسد اویسی کا جوابی وار پپو یا اعظم خاں کی حق بیانی کے کارگل کی جنگ نعرہ ’تکبیر اللہ اکبر کی گونج میں جیتی گئی ۔ اس پر مرکزی وزیر روی شنکر پرساد کا جوابی وار آخر ان قائدین کو کس نے اتنی چھوٹ دی اور اختیار دیا کہ وہ نفرت انگیز اور شر انگیز تقاریر کرتے ہوئے ماحول کو آلودہ کریں ۔ آخر کیوں قانونی رسہ کشی بھی انہیں جکڑ نہیں پاتی ۔ عدالتوں کی چھوٹ سے آزادی کا شکار ان قائدین کی زبانوں کو لگام دینا ضروری ہوگیا ہے اور یہ کام کسی سخت قانون کی وجہ سے ممکن ہے لیکن اس کے لیے کافی وقت لگے گا چونکہ اقتدار پر قابض جماعت کے کئی قائدین اس نفرت کی کنجی سے اپنا کھاتہ کھول کر ایوان میں آئے ہیں ۔ لہذا عوام ہی کو چاہئے کہ وہ ایسے افرادکو ایوانوں میں جانے سے روکیں اور امن کے گہوارہ اور مختلف مذاہب کے گلدستہ اس ملک کو سیاسی آلودگی سے بچاتے ہوئے مذہب کی آڑ میں نفرت کے تیزاب کے ذریعہ تباہ ہونے سے بچائیں ۔۔

TOPPOPULARRECENT