Thursday , May 24 2018
Home / مذہبی خبریں / قبل و ما بعد ہجرت، دین حق اسلام کی مقبولیت ،حضرت جارود بن عمروؓ اعزاز شہادت

قبل و ما بعد ہجرت، دین حق اسلام کی مقبولیت ،حضرت جارود بن عمروؓ اعزاز شہادت

آئی ہرک کا 1283واں تاریخ اسلام اجلاس،ڈاکٹر سید محمد حمید الدین شرفی اورپروفیسرسید محمدحسیب الدین حمیدی کے پر مغز لکچرس
حیدرآباد ۔31؍ڈسمبر( پریس نوٹ) حضور پاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مدینہ میں آمد سے قبل عبد اللہ بن ابی بن سلول العوفی مدینہ کا سردار تھا جو بعد میں منافقین کا سردار قرار پایا۔ اس کی قوم نے موتیوں کی ایک مالا تیار کی تھی کہ اس کو اس مالا کے ساتھ تاج پہناکر اپنا حاکم بنا لیں۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مدینہ منورہ رونق افروز ہوئے تو اس کی قوم نے اسلام قبول کر لیا۔ جب عبد اللہ بن ابی کی قوم اس سے پھر کر حضورؐ کی شیدائی ہو گئی تو اس کے دل میں کینہ پیدا ہو گیا اور وہ سمجھنے لگا کہ اس کی حکومت کو اسلام نے اس سے چھین لیا ہے اورجب دیکھا کہ اس کی قوم بجز رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے حکم کے اور کسی بات کو نہیں مانتی تو خود بھی بادل نخواستہ اسلام میں داخل ہو گیا لیکن نفاق اور کینہ اس کے دل سے دور نہ ہو سکا۔ منافقین کی جماعت سے جب کوئی حضور اقدسؐ سے ملتا تو بڑی یگانگت اور وابستگی کا اظہار کیا کرتا لیکن جب الگ ہوتے تو ان کی حالت برعکس ہوتی۔منافقین کی بڑھتی ہوئی شرارتوں معاندانہ سرگرمیوں، فتنہ و فساد پیدا کرنے کی کوششوں، مسلمانوں کے ساتھ ان کا حسد و بغض، استہزاء اور سب بڑھ کر ان کا چھپا ہوا کفر ایسا تھا جو زیادہ دنوں تک پوشیدہ نہ رہ سکا۔ جب منافقین اپنی حرکتوں میں حد سے گزر گئے تب ان کا پردہ فاش کر دیا گیا۔ ایک دن رسول اللہؐ نے ان منافقین کا حال بتا دیا اور ان کو نام بنام اپنی مسجد سے خارج کر دیا۔ قرآن حکیم میں نفاق اور منافقین سے متعلق کئی آیات نازل ہوئیں ہیں۔یہود و نصاریٰ، کفار و منافقین کی اسلام کے خلاف امکانی کوششیں ہوتی رہیں لیکن دین حق کی مقبولیت، توسیع اور اثر و نفوذ میں برابر اضافہ ہوتا رہا۔ ڈاکٹر سید محمد حمید الدین شرفی ڈائریکٹر آئی ہرک نے آج صبح 9 بجے ’’ایوان تاج العرفاء حمیدآباد‘‘ واقع شرفی چمن ،سبزی منڈی اور 11.30بجے دن جامع مسجد محبوب شاہی، مالاکنٹہ روڈ،روبرو معظم جاہی مارکٹ میں اسلامک ہسٹری ریسرچ کونسل (انڈیا) آئی ہرک کے زیر اہتمام منعقدہ ’1283‘ویں تاریخ اسلام اجلاس کے پہلے سیشن میں سیرت طیبہ کے تسلسل میں واقعات ما بعد ہجرت مقدسہ اور دوسرے سیشن میں ایک مہاجر ایک انصاری سلسلہ کے تحت صحابی رسول اللہؐحضرت جارود بن عمرو رضی اللہ عنہ کے احوال شریف پر مبنی توسیعی لکچر دئیے۔ قرا ء ت کلام پاک، حمد باری تعالیٰ،نعت شہنشاہ کونین ؐ سے اجلاس کا آغاز ہوا۔اہل علم حضرات اور باذوق سامعین کی کثیر تعداد موجود تھی۔صاحبزادہ سید محمد علی موسیٰ رضا قادری حمیدی نے خیر مقدمی خطاب کیا۔مولانا مفتی سید محمد سیف الدین حاکم حمیدی کامل نظامیہ و معاون ڈائریکٹر آئی ہرک نے ایک آیت جلیلہ کا تفسیری مطالعاتی مواد پیش کیا۔پروفیسرسید محمد حسیب الدین حمیدی جائنٹ ڈائریکٹر آئی ہرک نے ایک حدیث شریف کا تشریحی اور ایک فقہی مسئلہ کا توضیحی مطالعاتی مواد پیش کیا بعدہٗ انھوں نے انگلش لکچر سیریز کے ضمن میں حیات طیبہؐ کے مقدس موضوع پراپنا’1015‘ واں سلسلہ وار لکچر دیا۔ڈاکٹرسید محمد حمید الدین شرفی نے سلسلہ بیان جاری رکھتے ہوے کہاکہ حضرت جارودؓ بن عمرو قبیلہ عبد قیس کے رئیس تھے اور اپنے اہل قبیلہ میں بڑے احترام سے دیکھے جاتے تھے۔ قبیلہ والے ان کی ہر بات کی تعمیل کیا کرتے تھے اگر چہ کہ ان کا نام بشر بن عمرو تھا لیکن ایام جاہلیت میں انھوں نے اپنے حریف قبیلہ کا قلع قمع کر دیا تھا اس واقعہ کے سبب وہ جارود سے مخاطب کئے جانے لگے اور یہی نام پڑ گیا جب کہ ان کی کنیت ابو منذر تھی۔ سردار عبد قیس یعنی جارودؓ بن عمرو کے قبول اسلام سے سرکار دو عالمؐ مسرور ہوے اور سارے صحابہ میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ حضرت جارودؓ نے قبولیت ایمان کے وقت اپنے لئے خاص طمانیت چاہی تھی جس پر رسول اللہؐ نے انہیں یہ نوید جانفراء سنائی کہ میں تمہارا ضامن ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے تمہیںبہتر مذہب سے نوازا ہے۔ حضرت جارودؓ کا اسلام قبول کرنا ان کے سارے قبیلہ کے لئے شرفیاب ایمان ہونے کا سبب بنا۔ مشرف بہ ایمان ہونے کے بعد وہ وطن واپس ہوے اور اسلام پر مضبوطی کے ساتھ قائم رہے ۔رحلت شریف کے بعد ابھرنے والے فتنہ ارتداد کے وقت اپنے قبیلہ کو ارتداد و گمرہی سے روکے رکھا۔ عہد خلافت حضرت عمرابن خطابؓ میں مختلف معرکوں میں پامردی کے ساتھ حصہ لیا اظہار حق میں بڑے جری اور مخلص تھے معرکہ نہاوند یا بقول دیگر معرکہ فارس میں جام شہادت نوش کیا۔ اجلاس کے اختتام سے قبل بارگاہ رسالت پناہیؐ میںحضرت تاج العرفاءؒ کا تحریر کردہ سلام پیش کیا گیا۔ ذکر جہری اور دعاے سلامتی پر آئی ہرک کا’1283‘ واں تاریخ اسلام اجلاس اختتام پذیر ہوا۔الحاج محمد یوسف حمیدی نے ابتداء میں تعارفی کلمات کہے اور آخر میں محمد مظہر اکرام حمیدی نے شکریہ ادا کیا۔

TOPPOPULARRECENT