Monday , December 11 2017
Home / شہر کی خبریں / قبول اسلام کے بعد حضرت عروہ بن مسعودؓ کی شہادت

قبول اسلام کے بعد حضرت عروہ بن مسعودؓ کی شہادت

اسلامک ہسٹری ریسرچ کونسل انڈیا کا تاریخ اسلام اجلاس،ڈاکٹر سید محمد حمید الدین شرفی کے لکچرس
حیدرآباد ۔13؍مارچ( پریس نوٹ) مکی عہد میں مجموعی مسائل کا سامنا کرتے ہوے حضورؐ سے محبت و وفاداری، دار ارقم کا قیام، ہجرت حبشہ، بیعت عقبی میں جان نچھاور کرنے کا عزم، شب ہجرت کے عملی مظاہر، سفر ہجرت، غزوات و مشاہد میں اپنے سینوں کو سپر بنانا، دین کے لئے مالی ایثار، بیعت رضوان اور ایسے بے شمار مواقع ہیں جب کہ صحابہ کرام نے حضور انورؐ کے ساتھ اپنی ایمانی وابستگی کا موثر ثبوت دیا۔ان حقائق کا مکہ مکرمہ کے قریشیوں کو بھی شدت سے احساس تھا چنانچہ عروہ ؓ بن مسعودثقفی کا حدیبیہ کے موقع پر اہل مکہ کے سامنے واضح اعتراف اس کی دلیل ہے۔ان حقائق کے اظہار کے ساتھ ڈاکٹر سید محمد حمید الدین شرفی ڈائریکٹر آئی ہرک نے آج صبح 9 بجے ’’ایوان تاج العرفاء حمیدآباد‘‘ واقع شرفی چمن ،سبزی منڈی اور  11.30 بجے دن جامع مسجد محبوب شاہی، مالاکنٹہ روڈ،روبرو معظم جاہی مارکٹ میں اسلامک ہسٹری ریسرچ کونسل انڈیا (آئی ہرک) کے زیر اہتمام منعقدہ ’1190‘ویں تاریخ اسلام اجلاس کے علی الترتیب پہلے سیشن میں احوال انبیاء علیھم السلام کے تحت حضرت یونس علیہ السلام کے مقدس حالات اوردوسرے سیشن میں ایک مہاجر ایک انصاری سلسلہ کے ضمن میں صحابی رسول اللہؐ حضرت عروہؓ بن مسعودثقفی کے احوال شریف پر مبنی توسیعی لکچر دئیے۔ قرا ء ت کلام پاک، حمد باری تعالیٰ،نعت شہنشاہ کونین ؐ سے دونوں سیشنس کا آغاز ہوا۔اہل علم حضرات اور باذوق سامعین کی کثیر تعداد موجود تھی۔ڈاکٹر حمید الدین شرفی نے سلسلہ کلام کو جاری رکھتے ہوے بتایا کہ حدیبیہ میں قریش کے نمائندہ عروہ بن مسعود نے حضور انورؐ کے ساتھ صحابہ کرام کی محبت، حسن عقیدت اور صدق اخلاص کے ایسے مناظر دیکھے اور قریش سے اس کا اظہار کیا کہ ایسے مناظر شاید نہ کبھی دیکھے گئے اور نہ کبھی دیکھے جائیں گے۔ عروہ بن مسعود نے قریش کو بتایا کہ ہر شخص رسول اللہؐ کا حکم بجا لانے کے لئے ایک دوسرے پر سبقت لے جانا چاہتا ۔ اگر حضور کچھ ارشاد فرماتے تو سننے کے لئے ہر ایک سراپا گوش بنا ہوتا کسی کی مجال نہیں کہ آنکھ اٹھا کر دیکھے۔ حضرت عروہ نے گویا قریش کی اس بدگمانی کا جواب دیا کہ اگر قریش غلبہ پائیں تو صحابہ حضورؐ کو چھوڑ کر چلے جائیں گے لیکن جب حضرت عروہ نے صحابہ کرام کی رسول اللہؐ کے ساتھ محبت و عقیدت اخلاص و وابستگی اور جانثارانہ فدائیت کا حال سنایا تو قریش کو صحیح اندازہ ہو سکا اور ان کی بدگمانی دور ہوئی۔ حضرت عروہؓ نے کہا تھا’’ اے قوم والو میں نے قیصر و کسریٰ، نجاشی اور دیگر بڑے بڑے بادشاہوں کے دربار دیکھے مگر جو محبت و والہانہ عشق، ادب و احترام اور تعظیم و اجلال کے مناظر رسول اللہؐ کے ساتھ صحابہ کے دیکھے، کہیں نہ دیکھا‘‘۔ڈاکٹر حمید الدین شرفی نے بتایا کہ رسول اللہؐ جب ثقیف سے مراجعت فرما ہوے تو مدینہ منورہ پہنچنے سے قبل حضرت عروہؓ خدمت اقدس میں حاضر ہوے اور اسلام لاے۔ حضرت عروہؓ بن مسعود قریش کے مشہور خاندان ثقیف سے تعلق رکھتے تھے ۔ حضرت عروہ کی والدہ سبیعہ بھی قریشیہ تھیں وہ عبد شمس بن عبد مناف کی دختر تھیں حضرت عروہؓ کی کنیت ابو مسعود یا ابو یعفور تھی۔ وہ اپنے قبیلہ کے بڑے محبوب اور ہر دلعزیز تھے۔ قریش نے انھیں واقعہ حدیبیہ میں رسول اللہؐ کے پاس بھیجا تھا اور جب قریش کے پاس واپس آے تو کہا کہ میں تم لوگوں پر ایک واضح امر پیش کرتا ہوںاس کو قبول کرو۔ اسلام لانے کے بعد حضرت عروہؓ نے رسول اللہؐ سے اجازت لے کر اپنے قبیلہ کی طرف گئے انھیں امید تھی کہ قوم ان کی تابعداری کرے گی اور ان کے مسلمان ہونے پر خوش ہوگی اور دعوت حق خود بھی قبول کرے گی لیکن رسول اللہؐ نے انہیں باخبر فرما دیا تھا کہ شاید تمہارے ساتھ دوسرا معاملہ ہو۔چنانچہ ایسا ہی ہوا قبیلہ والوں نے نہ صرف مخالفت کی بلکہ اتنا شیدید رد عمل ہوا کہ حضرت عروہؓ کو تیروں سے چھلنی کر دیا اورا نھوں نے اسی وقت جام شہادت نوش کیا اور اپنی اس شہادت پر انھیں وقت آخر بڑا ناز و افتخار تھا۔ایک موقع پر حضور اقدسؐ نے ارشاد فرمایا کہ عروہؓ بن مسعود حضرت مسیحؑ سے صورتاً مشابہ تھے۔ حضورؐ کے ساتھ عشق و وابستگی اور دین سے محبت کا ثبوت خود ان کا شہید ہو جانا ہے۔ ان کے فرزند ابواملیح بھی اسلام لائے۔

TOPPOPULARRECENT