Saturday , September 22 2018
Home / Top Stories / قذافی کی دشمنی میں لیبیا کو برباد کرنے والوں نے ملک کو غلاوں کی منڈی بنادیا

قذافی کی دشمنی میں لیبیا کو برباد کرنے والوں نے ملک کو غلاوں کی منڈی بنادیا

تریپولی۔ قدیم زمانے میں انسانوں کی منڈیاں لگتی تھیں جن میں غلام جانوروں کی طرح فروخت ہوتے تھے۔ لیکن آج افریقہ کے جنگ سے تباہ حال مسلم ملک میں لیبیامیں بھی یہی ہورہا ہے۔ ہزاروں افریقی مہاجرین کی لیبیاکے اندر ہفتے غلام منڈیوں میں خرید وفروخت ہوتی ہے۔ ایک انسانی اسمگلر نے الجزیرہ کو بتایا کہ ان میں سے متعدد مہاجرین کو زرتعاون کے لئے قیدمیں رکھا جاتا ہے ۔خواتین مہاجرین کو اسمگلروں او ران کے اغوا کنندگان کو رقم کی ادائیگی کے لئے قحبہ گری پر مجبور کیاجاتا ہے۔ ان میں سے متعدد مہاجرین کو ان کے اسمگلر قتل کردیتے ہیں یا انہیں بے آب وگیاہ صحرا میں بھوک اور پیاس سے موت کے منہ میں جانے کے لئے چھوڑدیتے ہیں۔لیبیاکا جنوبی شہر سبہا جو کہ افریقہ کے دیگر ممالک سے لیبیا میں داخل ہونے والے مہاجرین کے لئے داخلے کا راستہ ہے‘ وہاں مردہ گھرمیں لاشوں کے ڈھیر لگی ہے او راس مردہ گھر میں خراب ریفریچر یٹر کی وجہہ سے لاشوں سے تعفن پھیل رہا ہے ۔

سبہا میں صحت افسران نے بتایا کہ کس طرح اسمگلر ایک بار میں پانچ پانچ یا تین تین لاشوں کو صحت مرکز کے دروازے پر پھینک جاتے ہیں۔ مرچکے مہاجرین کی کبھی شناخت نہیں ہوپاتی او ران میں سے متعدد کو ایسے ہی دفنادیاجاتا ہے۔سبہا کے ایک صحت اہلکارنے نام شائع نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ یہاں کے مردہ گھر میں صرف ایک ریفریچریٹر موجود ہے جوکہ خراب ہے اور اس میں زیاد ہ سے زیادہ تین دنوں تک لاش رکھی جاسکتی ہے ‘ تاہم اس میں اب کئی ماہ تک لاشیں رکھی رہتی ہے۔ بسااوقات لاشیں سڑگل جاتی ہیں اور ان سے تعفن پھوٹ پڑتا ہے ۔ اسی اہلکار نے مزید کہاکہ ‘ہم نے عالمی صحت تنظیم سے نئے ریفریچریٹر کی فراہمی کا مطالبہ کیاتھا لیکن ابھی تک کوئی مثبت جواب نہیں ملا۔قابل ذکر ہے کہ گھانا ‘ کیمرون ‘ نامبیا’ سنیگال‘ گامبیا اور سوڈان سے تعلق رکھنے والے مہاجرین کو جرائم پیشہ انسانی اسمگلروں کا منظم گروہ لیبیااس وعدے کے ساتھ اسمگل کرتا ہے کہ انہیںیوروپ پہنچایاجائے گا۔نائجریا اور دیگر افریقی ممال میں جاری شدت پسندی سے فرار ہوکر ہر سال لاکھوں لوگ لیبیاپہنچتے ہیں جہاں سے وہ یوروپ جانا چاہتے ہیں لیکن انسانی اسمگلروں کے ہتھے چڑھ کر تریپولی کی اس منڈی میں فروخت ہوجاتے ہیں۔

ان کے خریداروں میں زیادہ ترک کسان اور دیگر ایسے لوگ ہوتے ہیں جنہیں افرادی قوت کی ضرورت ہوتی ہے ۔ سمندر کے راستے یوروپ جانے کے لئے لیبیاایک اہم داخلی دروازہ ہے اور گذشتیہ تین سالوں سے دیڑھ لاکھ سے زائد مہاجرین اس خطرناک راستے کا سفر کرچکے ہیں۔ مہاجرین کی بین الاقوامی تنظیم نے کہاکہ اس نے مغربی افریقہ کے مہاجرین کا انٹریو کیاہے ‘ جنھوں نے بتایا کہ اسمگلروں نے سبہا میں گیراج اور کارپارکینگ میں ان کی خرید وفروخت کی ۔تنظیم نے سنیگال کے ایک مہاجرسے بات چیت کی جس نے بتایا کہ سبہا میں ایک گھر کے اندر 100سے زائد افراد کو اسمگلروں نے پکڑ رکھا تھا وہ ان کی پٹائی کرتے تھے اور انہیں مجبور کیا کہ وہ اپنی رہائی کے لئے گھر والو ں کو فون کرکے رقم کا انتظام کے لئے کہیں۔ درایں اثناء اقوام متحدہ میں فرانس کے سفیر نے سکیورٹی کونسل سے مطالبہ کیاکہ وہ لیبیا کے اندر افریقی مہاجرین او رتارکین وطن کی خرید وفروخت میں ملوث افراد پر پابندی عائد کرے ۔ واضح رہے کہ اس سے قبل سی این این نے اپنی ایک رپورٹ میں انکشاف کیاتھا کہ لیبیامیں انسانوں کی خرید وفروخت ہورہی ہے ۔

سی این این کو ایک ویڈیوموصول ہوا جس میں ایک نوجوان کی بولی لگائی جارہی تھی جو800ڈالر پر ختم ہوئی۔ سی این این نے اس ویڈیو کی تصدیق کے لئے اپنے نمائندے کو لیبیا بھیجا‘ جس نے وہاں سے ایسے انکشافات کے کہ دنیا دنگ رہ گئی۔ سی این این نے بتایا کہ لیبیا کی درالحکومت تریپولی میں انسانوں کی بیوپاری کئی کئی نوجوانوں کو ساتھ لے کر بازاروں میں کھڑ ے ہوتے ہیں اور آوازیں لگالگا کر انہیں فروخت کرتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق تریپولی میں روزانہ کی بنیاد پر انسانوں کی منڈی لگتی ہے جس میں چھ سے سات منٹ کے اندر درجنوں لوگو فروخت ہوجاتے ہیں۔ لوگ ہاتھ اٹھااٹھاکر ان کی بولی دیتے ہیں اور آخڑی بولی دینے والا رقم ادا کرکے غلام کو لے جاتا ہے۔سی این این نے ایک بولی کے بعد فروخت ہونے والے دونوں نوجوانوں سے ملاقات کی جو اس قدر نفسیاتی صدمے سے دوچار تھے کہ بولنے کی سکت بھی کھوچکے تھے۔ وہ اس قدر خوفزدہ تھے کہ ہر ایک کوشک کی نگاہ سے دیکھ رہے تھے او رکسی کوکچھ بتانے پر آمادہ نہ ہوتھے

TOPPOPULARRECENT