Monday , November 20 2017
Home / مذہبی صفحہ / قرآن مجید کی روشنی میں تحفظ دین

قرآن مجید کی روشنی میں تحفظ دین

سید محمد افتخار مشرف

اﷲ تعالیٰ نے انسان کی تخلیق کے ساتھ ہی اس کی ہدایت کا اہتمام فرمایا۔جو صداقت حضرت آدم علیہ السلام کے دور سے شروع ہوئی اس کی حقیقت کبھی نہیں بدلی ،اس کے ضروری اجزا توحید و رسالت اور معاد (ہرچیز کااپنے مقصد اور انتہا کی طرف پلٹنا ) ہر دور اور ہر زمانہ میں محفوظ رہے ۔ تمام انبیاء کرام دین کے تحفظ کیلئے مبعوث کئے گئے ۔ دین کی اس اہمیت کے باوجود اﷲ تعالیٰ نے قرآن حکیم میں ارشاد فرماتا ہے ’’جو کوئی اسلام کے علاوہ کوئی دین اختیار کرے گا تو وہ قبول نہیں کیا جائے گا ‘‘ ۔
( ال عمران )
دین کی اشاعت ، دعوت و تبلیغ کے ذریعہ ہو کسی فرد کو زبردستی دین قبول کرنے پر مجبور نہ کیا جائے ۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے ’’دین کے بارے میں زبردستی نہیں ہے ‘‘۔  ( البقرہ )
دین کی تفہیم کے لئے قرآن حکیم نے آفاق و انفس سے بیشمار دلائل دیئے ہیں جن سے توحید باری تعالیٰ ، حقانیت ، نبوت و رسالت اور امکان معاد پر سیر حاصل روشنی پڑتی ہے ۔ قرآن مجید کی آیت حم السجدہ میں اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے ’’عنقریب ہم اُن کو خارج کی دنیا میں اور نفس انسانی کے اندر ایسے حقائق سے آشنا کریں گے جن سے ان پر واضح ہوجائیگا کہ قرآن مجید سچی کتاب ہے ‘‘
قرآن حکیم میں ایک اور آیت مبارکہ میں ارشاد باری تعالیٰ ہے ’’تم بہترین اُمت ہو جسے اس لئے پیدا کیا گیا ہے کہ اچھی باتوں کا حکم دو برائیوں سے روکو اور اﷲ پر ایمان لاؤ ۔ ( ال عمران )
اسی سورۂ مبارکہ میں اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے ’’تم میں سے ایک جماعت ایسی ہونی چاہئے جو بھلائی کی طرف بلائے ، اچھے کاموں کا حکم دے اور برائیوں سے روکے ۔ جو لوگ یہ کام کریں گے وہی فلاح پائیں گے ‘‘۔ ( ال عمران )
اسلامی احکام تمام تر حکمت و دانش کے ساتھ وابستہ ہیں۔ قرآن حکیم کی آیت البقرہ میں ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ ’’اﷲ تعالیٰ جس سے بھلائی کا ارادہ کرتا ہے اسے دین کی سمجھ عطا کرتا ہے ‘‘ ۔
اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ دین کی سمجھ ایک ایسی اہم چیز ہے جو ہر کسی کو عطا نہیں ہوتی ۔ یہی وجہ ہے کہ کچھ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ احکام شرعیہ میں کوئی مصلحت اور حکمت نہیں ہوتی ۔ شریعت کی پابندی کا مقصد محض بندے کی اطاعت شعاری کا امتحان ہے اور بس، لیکن شاہ ولی اﷲ جنھوں نے اسرار شریعت کو اپنا خاص موضوع تحقیق بنایا ہے ، اس سے انکار کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ یہ خیال غلط ہے ۔ سنت اور خیرالقرون کا اجماع اس خیال کو غلط قرار دیتے ہیں۔
قرآن حکیم کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن مجید نے اپنے خطاب کی بنیاد ہی عقل کو بنایا اور احکام الٰہی انہی لوگوں کی طرف متوجہ ہوتے ہیں جو عاقل ہیں۔ قرآن مجید نے تمام اسلامی احکام کو عقلی حوالوں اور منطقی دلائل سے سمجھانے کی کوشش کی ہے ۔ مثلاً توحید کا عقیدہ وہ بنیادی عقیدہ ہے جس پر دین کی تمام عمارت کی بنیاد کھڑی ہے اور اس عقیدے پر کسی طرح کی کوئی مفاہمت ممکن نہیں۔ اس کے باوجود قرآن مجید نے اس عقیدے کی تفہیم کے لئے ہر طرح کے عقلی دلائل دیئے ہیں۔
قرآن حکیم نے تفکر ، تدبر اور تعقل کی بار بار دعوت دی ۔ ایک ذرے سے لیکر آفتاب تک کائنات اُمور کے مشاہدے کا حکم دیا ۔ اجرام فلکی جس خاموشی اور تیزرفتاری کے ساتھ آسمان پر اپنے مقررہ راستوں پر رواں دواں ہیں ، بارش سوکھی زمین کی پیاس بجھانے کے لئے برستی ہے ، جہاز جو سمندروں کا سینہ چیرتے ہوئے گزرتے ہیں اور انسانوں کی بہبود کی اشیاء سے لدے ہوئے ہیں ، کھجور کے درخت اپنے سبزے پھل سے جھکے پڑتے ہیں ۔ کائنات کی یہ تنظیم کیا پتھر کے خداؤں کا کارنامہ ہوسکتا ہے ؟ اگر یہ سب کچھ ایک قادر و قیوم ذات کی تخلیق ہے اور اس نے اسے بے مقصد نہیں پیدا کیاتو کیسے ممکن ہے کہ اس نے انسانوں کو جو احکام دیئے وہ بے مقصد ہوں ۔ ان کے پیچھے کوئی حکمت و دانش نہ ہو ، ان میں باہمی کوئی ربط و تنظیم نہ ہو ۔ ان میں منطیقت اور معقولیت عنقا ہو ۔
ارشاد ربانی ہے ’’ہم نے زمین و آسمان اور جو کچھ ان کے درمیان ہے کھیل تماشے کے لئے پیدا نہیں کیا ۔ ہم نے انھیں حق کے ساتھ تخلیق کیا ہے لیکن اکثر لوگ علم نہیں رکھتے ‘‘۔ (الدخان)

TOPPOPULARRECENT