Tuesday , December 11 2018

قرآن مجید ہونے کے باوجود مسلمان پریشان کیوں؟

حیدرآباد۔19۔جنوری(پریس نوٹ) یونیورسل اسلامک ریسرچ سنٹر کے جوائنٹ سکریٹری برادر سید الیاس احمد نے کہا کہ مسلمانوں کو اس بات پر غو ر کرنا ہوگاکہ آخر پوری دنیا میں اس وقت مسلمان مسائل کا شکار کیوں ہیں؟ لیکن تاریخ کے مطالعے سے یہ واضح ہوجائے گا کہ جب جب مسلمانوں نے اللہ سبحانہ تعالی کے احکامات کے مطابق زندگی نہیں گذاری تو ذلت و رسوائی اُن کا مقدر بن گئی۔ پیس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے برادر الیاس نے کہا کہ دنیا کی کوئی اور قوم پریشان ہے تو اسے یہ کہہ کر ٹال سکتے ہیں کہ اس کے پاس اپنی پریشانی کو دور کرنے کا کوئی حل نہیں ‘ کوئی ذریعہ نہیں۔

لیکن اگر مسلمان پریشان ہیں تو افسوس ہی نہیں بلکہ شرم کی بات ہے۔ اس قوم کے پاس ایک ایسا تحریری دستور ہے جس میں تمام پریشانیوں کا حل ہے لیکن بدقسمتی سے ہم اپنے مسائل کا حل اس میں تلاش نہیں کرتے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب تک مسلمان اس کتاب کی ہدایت پر عمل کرتے رہے دنیا کی سرداری ان کے ہاتھ میں تھی اور جب اس کتاب سے دور ہوگئے ذلیل و خوار بن گئے۔ اگر انسانیت کو انصاف کو اور ملک کو بچانا ہے ‘ اپنی حالت اور ملک کے حالات کو بدلنا ہے تو اپنی طاقت کو پہچانو اور اپنے سبھی باہمی اختلافات بھول کر صرف مسلمان کے نام پر ظلم اور ناانصافی کے خلاف ایک ہوجاو۔ اس لیے اٹھو اور اللہ کے اس حکم کی تعمیل کرو اور اپنے دماغ میں ذہن نشین کرلوکہ ’’اور دیکھو بے دل نہ ہونا اور کسی طرح کا غم نہ کرنا اگر تم مومن ہو تو تم ہی غالب رہو گے‘‘ (سورہ آل عمران ۔آیت نمبر 139)نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی پوری زندگی مجسم قرآن تھی۔ آپ ؐ ایک طرف تو عابد تھے‘صبر و شکر کے مجسمے اور آخرت کے طلبگار تھے۔دوسری طرف اندرون خانہ سے لے کر تمدن و سیاست کے آخری کناروں تک قرآنی احکام و ہدایات کی عملی ترجمانی آپ ؐ اپنا فرض سمجھتے تھے۔ اللہ نے ہمیں ذمہ داری سونپی اور رسول حبیب مصطفی صلی اللہ علیہ و سلم نے ہمارے سامنے اس ذمہ داری کی عظمت واضح کی۔انہوں نے کہا کہ آج وطن عزیز ہندوستان کئی مسائل سے دوچار ہے

جس میں بڑھتی فرقہ پرستی سرفہرست ہے اور ہمیں اس مسئلہ سے نمٹنے کیلئے اپنی جاری کوششوں کو مزید تیز کرنا ہوگا۔ اس کے علاوہ بلالحاظ مذہب تمام انسانوں کو مشترکہ مسائل کا سامنا ہے اور ان تمام مسائل کا حل صرف اسلام ہے۔ ایسے حالات میں ہم مسلمانوں کو چاہئیے کہ اشتعال انگیزی‘ شرانگیزی اور منفی پروپیگنڈے کے جواب میں صحیح اسلامی تعلیمات کو پیش کریں اور لوگوں کو قرآن ‘ اسلام اور پیغمبر اسلام ؐ کے احکامات سے روشناس کرائیں۔ اپنے اخلاق وکردار کے ذریعے دنیا کے سامنے اس کا عملی ثبوت بھی پیش کرنا ہوگا۔ اگر ہم اپنے عمل سے یہ ثابت کردیں کہ مسلمان تمام انسانوں کو نفع پہنچانے والی امت ہے تو ہمارے بہت سے مسائل خود بخود حل ہوجائیں گے۔اس کانفرنس سے برادر شفیع اور برادر سراج الرحمن نے بھی خطاب کیا۔ محمد غوث خضر نے کانفرنس کی کارروائی انجام دی۔

TOPPOPULARRECENT