Tuesday , September 25 2018
Home / مضامین / قرآن کا پیغام امن ، برادران وطن کے نام

قرآن کا پیغام امن ، برادران وطن کے نام

ڈاکٹر محمد سراج الرحمن فاروقی خطیب جامع مسجد پائیگاہ بشیرباغ رب العالمین کی اس عظیم کائنات میں مخالف اسلام طاقتیں ، مغربیت ، اشتراکیت کے جراثیم اور نت نئے ہتھکنڈے استعمال کرتے ہوئے اسلام کی جڑ جو دن بدن مضبوط ہورہی ہے ، دائرہ اسلام کو دن رات ہونیوالی وسعت کو روکنا چاہتے ہیں جو بلاشک و شبہ ناممکنات میں سے ہے ۔

ڈاکٹر محمد سراج الرحمن فاروقی
خطیب جامع مسجد پائیگاہ بشیرباغ
رب العالمین کی اس عظیم کائنات میں مخالف اسلام طاقتیں ، مغربیت ، اشتراکیت کے جراثیم اور نت نئے ہتھکنڈے استعمال کرتے ہوئے اسلام کی جڑ جو دن بدن مضبوط ہورہی ہے ، دائرہ اسلام کو دن رات ہونیوالی وسعت کو روکنا چاہتے ہیں جو بلاشک و شبہ ناممکنات میں سے ہے ۔

کیوں کہ فرمان رسالت مآب صلی اﷲ علیہ و آلہٖ و سلم کا مفہوم ہے : ’’قیامت سے پہلے اسلام ہر کچے پکے مکان ، بر و بحر ، خشک و تر مشرق مغرب ، شمال جنوب تک داخل ہوکر رہے گا ‘‘۔ ایسے ہی بے حساب واقعات ہر روز ہمیں سننے ، پڑھنے ، دیکھنے میں آرہے ہیں ۔ یہ ظاہری زور و زبردستی ، ہڑبونگ ، شور شرابہ ، یا قانون سازی کی کوششیں ، ایمان والے کیلئے مچھر کا پر یا مکھڑی کے جالے کی بھی حیثیت نہیں رکھتیں، یہ ہمیں مرعوب نہیں کرسکتیں ۔ گھر واپسی پروگرام میں ناکامی کے بعد ، لوجہاد کے اُلٹے نتائج سے آزردہ یہ سازشیں جو سوریہ نمسکار ، گیتا کے پاٹھ کا پڑھوایا جانا اور اب یوگا کو عالمی دن میں تبدیل کرکے خصوصاً اقلیتوں خاص کر اسلام کے علمبرداروں ( نونہالوں ، نوجوانوں) کے ایمانیات پر خاموش ڈاکہ ڈالا جارہا ہے ، یہ ایمانیات سے کئے جانے والی سودے بازی محض اعلانات تک ہی محدود رہے گی ۔ یہ ہمارے دین ، ایمان ، شریعت محمدی ﷺ میں جس کا محافظ خود رب العالمین ہے میں کسی قسم کی بال برابر تغیرات نہیں لاسکیں گے ۔

یہ دراصل ایمان کی طاقت کا اندازہ نہیں کرپائے اور نہ کرسکیں گے ۔ جیسا کہ علامہ اقبال علیہ الرحمہ کہتے ہیں ۔
یہ فاقہ کش موت سے ڈرتا نہیں ذرا
روح محمدؐ اس کے بدن سے نکالدو
فکر عرب کو دیکر فرنگی تخیلات
اسلام کو حجاز و عرب سے نکالدو
لیکن جب تک اُمت مسلمہ قرآن کا پیغام برادران وطن کو نہیں پہنچائے گی یہ بیچارے خود کا اپنا رشتہ خالق کائنات سے کیسے جوڑیں گے ۔ ان کو اپنی بھٹکی ہوئی راہسے راہ راست پر لانا ، ان کے رب العالمین سے ٹوٹے ہوئے ناطے رشتے کو دوبارہ بحال کرنا اور جہنم کی ابدی آگ میں ان کو جلنے سے بچانا یہ اُمت مسلمہ کی ناقابل انکار ذمہ داری ہے ۔
ہندوستان میں دعوۃ الی اﷲ ، تبلیغ دین حق ، قرآن کے آفاقی پیغام کو پہنچانے والوں کو خاص خوشخبری ، بشارتیں دی گئی ہیں ۔ رب العالمین قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے ۔
ترجمہ : اور پھر ہم نے تم کو زمین پر جانشین بنایا تمہارے اگلوں کا ، تاکہ ہم دیکھیں تم کیا عمل کرتے ہو ۔

دراصل اﷲ سبحانہ تعالیٰ اُمت مسلمہ پر جو بھاری ناقابل انکار ذمہ داری جس کا ہر کلمہ گو مکلف بھی ہے اس کے کندھوں پر ڈالی ہے کہ وہ تمام انسانوں کو خیرخواہی ، ان سب کی نجات کی فکر ، اخروی زندگی میں کامیابی کی تڑپ اور اُمت مسلمہ پر اسلام کے لازوال پیغام کو عام کرنے کی محنت کرنا ، اور اسلام کو بے مثال نعمت سے آشنا کرانے کو عظیم منصبی ذمہ داری ہمارے کندھوں پر ڈالی گئی ہے اور اس کے کرنے پر اعلیٰ ترین نعمتیں عطا کرنے کاوعدہ اور اس ذمہ داری سے پہلوتہی یا پس پشت ڈالنے پر سخت وعیدیں آئی ہیں۔ رب العالمین خیر اُمت کا لقب دیکر رحمت للعالمین کی اُمت بنایا اور ہمارے رسول ﷺ کو ساری انسانیت کے آخری کامل رسول بناکر بھیجا جس کے لئے قرآن خود گواہی دے رہا ہے ۔
سورۃ الاعراف میں ہے ’’ میں ( محمد ﷺ ) ساری انسانیت کے لئے کامل رسول بناکر بھیجا گیا ہوں ‘‘۔
یعنی اُمت مسلمہ داعی ، ذمہ دار ، مسئول بناکر بھیجی گئی ہے یہ ایک داعی مبلغ اُمت ہے جس کا کام دعوتی محنت ہے ۔ دعوت دین حق کا پیغام برادران وطن کو پہنچانا ہے لیکن افسوس اس کامیاب ، باعزت نبوی مشن سے مجرمانہ غفلت اور اس سلسلہ میں اُمت کی بے حسی سے بہت سی جگہوں پر نوبت یہاں تک آپہنچی کہ روئے زمین پر دعوت دین حق کی مکلف تنہا علمبردار قوم اُمت مسلمہ خود دوسری (مُردہ مذہبی ) تحریکوں کے دعوتی نشانوں پر ہے، اور اس اُمت کے افراد ان کی زد میں مسلسل آرہے ہیں۔ اپنے مشنریز کا جال بچھایاہے ۔ مالی امداد کے ، معیاری اسکولوں ، انسانی ہمدردی کے کیمپس ، ممتاز اسپتالوں ، شہر حیدرآباد و اطراف کے دیہات بھی اب ان کی سرگرمیوں کا شکار ہیں۔
پڑوسی ممالک بنگلہ دیش کے بارے میں خبر ملی ہے کہ صرف بنگلہ دیش میں چودہ ہزار سے زیادہ عیسائی تنظیمیں سرگرم ہیں جن کو Engoo کہا جاتا ہے وہ اپنے مذہب کی تبلیغ کا کام انجام دے رہی ہیں جس کا نتیجہ یہ ہے کہ تقریباً 64 لاکھ لوگ مرتد ہوکر عیسائی بن گئے ہیں ۔ اب ہم کو خواب غفلت سے بیدار ہوکر ، کچھ دکھانا ہے ، جس دعوت الی اﷲ کا کام جو تمام مسائل کا منہ توڑ جواب ہے ، جس کے کرنے پر دنیا و آخرت کی کامیابی کا وعدہ بھی ہے ۔

حدیث رسول اکرم صلی اﷲ علیہ و آلہٖ و سلم سے ہمیں واضح پیشن گوئی ملتی ہے کہ دعوت الی اﷲ کا کام کرنے کیلئے برصغیر میں ایک مخصوص گروہ اُٹھے گا جس کو عصابہ کہا جائیگا یعنی یہ گروہ دعوتی جدوجہد کرے گا ( نسائی) یہ مخصوص گروہ ہند میں دعوتی کام کرے گا اور لوگوں کو جنت کا راستہ دکھائے گا اور یہی وہ دعوتی کام ہے جس کے ذریعہ لوگ اﷲ تعالیٰ کے ابدی رحمت کے سائے میں آئیں گے ۔ یہ گروہ عذاب جہنم سے محفوظ رہیگا ، جنت کے دروازے اس کیلئے کھول دیئے جائیں گے اور رب العالمین کی ابدی جنت میں جگہ پائے گا ۔
اﷲ تعالیٰ سے دعا ہے کہ رمضان المبارک کے مہینے کو غنیمت جانتے ہوئے قرآن پاک کے پیغام کو اور توحید و رسالت کے اس مشن کو عام کرتے ہوئے باطل قوتوں کا موثر جواب دینے کی توفیق نصیب فرمائے اور اس جنتی گروہ ( عصابہ ) میں ہمیں شامل فرمائے ، جس کے بارے میں رسول اکرم ﷺ نے دنیا و آخرت کی کامیابی کی بشارت دی ہے ، آمین بحق طہٰ و یٰسین ۔

TOPPOPULARRECENT