Thursday , November 23 2017

قران

وہیں دعا مانگی زکریا (علیہ السلام) نے اپنے رب سے، عرض کی اے میرے رب! عطا فرما مجھ کو اپنے پاس سے پاکیزہ اولاد، بے شک توہی سننے والا ہے دعا کا۔ پھر آواز دی ان کو فرشتوں نے جب کہ وہ کھڑے نماز پڑھ رہے تھی (اپنی) عبادت گاہ میں کہ بے شک اللہ تعالی خوش خبری دیتا ہے آپ کو یحیی (علیہ السلام) کی، جو تصدیق کرنے والا ہوگا اللہ تعالی کی طرف سے ایک فرمان کی اور سردار ہوگا اور ہمیشہ عورتوں سے بچنے والا ہوگا اور نبی ہوگا صالحین سے۔ (سورۂ آل عمران۔۳۸،۳۹)
حضرت زکریا علیہ السلام کی عمر کافی ہوچکی تھی، لیکن اولاد نہ تھی۔ حضرت مریم کے شب و روز بڑے اخلاص سے محو عبادت رہنے کے باعث ان کے دل میں بھی اولاد کی آرزو بیدار ہوئی اور عرض کرنے لگے: اے رب! اگرچہ میں بوڑھا ہوچکا ہوں اور میری بیوی بانجھ ہوچکی ہے اور اولاد پیدا ہونے کا عام وقت گزر چکا ہے، لیکن تو وہ کریم اور قادر ہے جو اس مقفل حجرے میں مریم کو بے موسم کے پھل عطا فرماتا ہے۔ تیرے کرم سے کیا بعید ہے اگر تو مجھے بھی نیک بخت اور پاک اولاد عطا فرمادے۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ نیک اولاد کے لئے دعا کرنا انبیاء کرام کی سنت ہے اور یہ بھی معلوم ہوا کہ مبارک مکان، مبارک وقت میں کسی اللہ کے محبوب کے پاس کھڑے ہوکر جو دعا کی جاتی ہے، اس کو اللہ تعالی اپنے فضل و کرم سے قبول فرماتا ہے۔
فرشتوں کے ذریعہ حضرت زکریا علیہ السلام کو ان کی دعا کی مقبولیت کی خوش خبری دے دی گئی۔ بچے کا نام اور اس کی عزت و پاکبازی کی اطلاع بھی دے دی اور ساتھ ہی یہ بھی ارشاد فرمادیا گیا کہ وہ نبی ہوگا۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT