Wednesday , December 13 2017

قران

بے شک ہم نے وحی بھیجی آپ کی طرف جیسے وحی بھیجی ہم نے نوح (علیہ السلام) کی طرف اور ان نبیوں کی طرف جو نوح (علیہ السلام) کے بعد آئے اور (جیسے) وحی بھیجی ہم نے ابراہیم، اسماعیل، اسحاق، یعقوب اور ان کے بیٹوں اور عیسیٰ، ایوب، یونس، ہارون اور سلیمان (علیہم السلام) کی طرف اور ہم نے عطا فرمائی داؤد (علیہ السلام) کو زبور۔ (سورۃ النساء۔۱۶۳)
انبیاء کرام علیہم السلام کی طرف اللہ تعالیٰ کی جانب سے جو وحی کی جاتی ہے، اس کا مفہوم یہ ہے کہ ’’اس علم یقینی اور قطعی کو وحی کہتے ہیں، جو اللہ تعالیٰ دوسرے لوگوں سے پنہاں اپنے انبیاء کے دِلوں میں القاء فرماتا ہے۔ جن کے ارواحِ طیبہ کو اس نے پہلے سے اس علم کو قبول کرنے کے لئے تیار کیا ہوتا ہے۔ یہ القاء کبھی فرشتہ کے واسطے سے ہوتا ہے اور کبھی بلاواسطہ براہ راست‘‘۔ (المنار)
عربی میں وحی کا معنی اشارہ کرنا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ’’حضرت زکریا علیہ السلام نے انھیں اشارہ کیا کہ صبح و شام اللہ تعالیٰ کی تسبیح کیا کریں‘‘۔  علاوہ ازیں اس کا اطلاق مختلف مفہوموں پر ہوتا رہتا ہے۔ وحی کی یہ اجمالی حقیقت ذہن نشین ہونے کے بعد اب آیت کریمہ پر غور فرمائیں کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کو یہود شک کی نگاہ سے دیکھتے اور بہت حیران ہوتے تھے کہ آپﷺ کیونکر نبی ہو گئے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ آپﷺ سے پہلے اور انبیاء بھی مبعوث ہوئے اور ان پر اللہ تعالیٰ کی وحی نازل ہوئی ہے اور جب وہ ان کی نبوت اور ان پر نزول وحی کو تسلیم ہیں تو آپﷺ کو کیوں نبی نہیں مانتے، لہذا آیت مبارکہ میں چند انبیاء کرام کے اسمائے گرامی ذکر کردیئے، تاکہ انھیں مجالِ انکار نہ رہے۔

TOPPOPULARRECENT