Wednesday , November 22 2017

قران

وہ جانتا ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے، نیز وہ جانتا ہے جسے تم چھپاتے ہو اور جسے تم ظاہر کرتے ہو، اور اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے جو سینوں میں (پوشیدہ) ہے۔ (سورۂ تغابن۔۴)
اللہ تعالیٰ کے علم کی گیرائی اور وسعت کا اندازہ ممکن نہیں۔ بلندیوں اور پستیوں میں کوئی حقیر سے حقیر چیز بھی ایسی نہیں، جس کا اسے علم نہ ہو۔ اگر اس کو خشخاش کے باریک سے دانے کا علم نہ ہو جو زمین کے تاریک شکم میں بودیا جاتا ہے تو وہ اُگے کیسے، بڑا کیسے ہو، اس پر پھول کیسے آئیں اور وہ پک کر تیار کیسے ہو۔ انسان کا مقام ساری مخلوقات میں اعلیٰ و ارفع ہے، اس لئے اس کا ذکر ہر موقع پر خصوصیت سے کیا جاتا ہے۔ یہاں بھی فرمایا کہ آسمانوں اور زمین کی ہر چیز کو جاننے والا، اے انسان تجھے بھی جانتا ہے اور کوئی فعل اس سے مخفی نہیں۔ تو ہزار پردوں کے پیچھے چھپ کر بھی کوئی کام کرے گا، تب بھی اس کو اس کا علم ہے، بلکہ جو خیال تیرے نہاں خانۂ دل میں ابھی انگڑائیاں لے رہا ہے، اس سے بھی وہ پوری طرح باخبر ہے۔ اس لئے سرکشی کا انداز ترک کردو، اطاعت و انقیاد کو اپنا شعار بنالو، اسی میں تمہاری بھلائی اور دونوں جہانوں کی فلاح کا راز پوشیدہ ہے۔
قرآن کریم ہر مناسب مقام پر انسان کو یہ احساس دِلاتا ہے کہ تو اشرف المخلوقات ہے، جو شکل و صورت تجھے دی گئی ہے، وہ بھی بے نظیر ہے۔ جو فہم و شعور تجھے بخشا گیا ہے، اس کی بھی مثال نہیں۔ فعل و ترک کی جو آزادی تجھے دی گئی ہے، کسی اور مخلوق کو نہیں دی گئی۔ اب تیرا بھی فرض ہے کہ اپنے کریم رب کو پہچان، اپنی زندگی کو اس کے احکام کے سانچے میں ڈھال، اس کی نعمتوں کا شکر ادا کر۔ اس سے دو مقصد پورے ہوں گے، تیرا خدا بھی راضی ہو جائے گا اور تیری شخصیت کو بھی چار چاند لگ جائیں گے۔

TOPPOPULARRECENT