Monday , December 18 2017

قران

اے چادر لپیٹنے والے ۔ (سورۃ المدثر ۔ آیت ۱)
وہ لباس جو جسم کو مس کرتا ہے اسے عربی میں شعار کہتے ہیں اور اس کے اوپر جو چادر ، کمبل وغیرہ پہنا جاتا ہے اسے وثار کہتے ہیں۔ مدثر ، دثار سے ہی مشتق ہے ۔ اس کا لغوی معنی ہے چادر یا کمبل میں اپنے آپ کو لپیٹنے والے ۔ اس کی شان نزول کے بارے میں مذکورہے کہ غارِ حرا میں جبرئیل امین جب پہلی مرتبہ وحی لے کر حاضر ہوئے تو اس کے بعد کافی عرصہ تک نزولِ وحی کا سلسلہ بند رہا ۔ اسے فترۃ الوحی کا زمانہ کہا جاتا ہے ۔ اس عرصہ میں حضور اکرم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ و آلہٖ و سلم پر بڑے قلق و اضطراب کی کیفیت طاری رہی ۔ کلام الٰہی میں جو چاشنی اور مٹھاس ہے ، کان اب اس سے آشنا ہوچکے تھے ، اس کو دوبارہ سننے کے لئے سخت بے تاب تھے ۔ اتنا لُطف و کرم ، پھر سکوت ، وہ بھی اتنا طویل ، قبض کی یہ کیفیت بڑی صبر آزما تھی۔ دل بے چین ، کان بے تاب اور آنکھیں مشتاق ۔ آخر پھر درِ رحمت کُھلا اور سلسلۂ وحی شروع ہوا ۔ اس کی حالت حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام خود ارشاد فرماتے ہیں کہ ایک روز میں چلا جارہا تھا کہ آسمان کی طرف سے ایک آواز سنائی دی ، میں نے نگاہ آسمان کی طرف اُٹھائی تو کیا دیکھتا ہوں کہ وہی فرشتہ جو حرا میں میرے پاس آیا تھا ، زمین و آسمان کے درمیان ایک زرّیں کرسی پر بیٹھا ہوا ہے ۔ یہ منظر دیکھ کر مجھے خوف محسوس ہوا ۔ گھر واپس لوٹ آیا ۔ میں نے کہا زِمِّلُوْنی زِمِّلُوْنی۔ فدثّرونی تو انھوں نے چادر یا کمبل مجھ پر ڈال دیا اس وقت جبرئیل امین آگئے اور یہ پیغام خداوندی آکر سنایا ۔ علامہ موصوف نے قصیدہ بردہ کے دو اشعار سنائے ، ترجمہ : ۱) اس دنیا میں سوئی ہوئی قوم جو محض خیالات سے اپنے دلوں کو بہلارہی ہے حضورؐ کی حقیقت کو کیسے پہچان سکتی ہے ۔ ۲) علم کی انتہا تو یہ ہے کہ آپ بشر ہیں اور اﷲ تعالیٰ کی ساری مخلوقات میں سب سے بہتر ہیں۔ قرآن کریم کے معانی کا سمندر بڑا عمیق ہے اس کی تہہ تک کون پہنچ سکتا ہے ؟ اس کے اسرار و معارف کے موتی ان گنت ہیں ان کا شمار کون کرسکتا ہے ؟ واﷲ تعالیٰ اعلم و حبیبہ الاکرم۔

TOPPOPULARRECENT