Tuesday , December 12 2017

قران

( اے حبیب ! ) آپ (انہیں) فرمائیے میں تمہیں صرف ایک نصیحت کرتا ہوں ( یہ تو مان لو ) تم اﷲ کیلئے کھڑے ہوجاؤ دو دو یا اکیلے اکیلے پھر خوب سوچو ( تمہیں ماننا پڑے گا ) تمہارے اس رفیق میں جنوں کا شائبہ تک نہیں ہے ۔ نہیں ہے وہ مگر بروقت خبردار کرنے والا تمہیں سخت عذاب کے آنے سے پہلے ۔ (سورہ سبا۔ آیت ۴۶)
حضور فخرعالم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ و سلم کے خلاف جو لوگ طوفانِ بدتمیزی برپا کیا کرتے تھے اور ناروا الزامات لگاکر سادہ لوح لوگوں کو متنفر کیاکرتے تھے انھیں کہا جارہا ہے کہ ہم اس تنازعہ کا فیصلہ تم پر چھوڑتے ہیں ۔ کسی غیر کو یہاں حکم بنانے کی ضرورت نہیں تم میری صرف ایک نصیحت مان لو وہ یہ ہے کہ تم دو دو مل کر یا اکیلے تنہائی میں بیٹھ کر اس امر پر غور کرو کہ تم جو اپنے رفیق اور بچپن کے ساتھی کو مجنون کہتے ہو، اس کی تمہارے پاس کوئی معقول وجہ بھی ہے ۔ کیا تم نے انہیں مجنونوں کی طرح بے سر و پا باتیں کرتے کبھی سُنا ہے ؟ کبھی انھوں نے ناشائستہ بات تک بھی کی ہے ۔ ان کا ہر کام مقصدیت اور معنویت کا لاجواب نمونہ ہوتا ہے ۔ ان کا ہرفعل اتنا دلربا اور رُوح افزا ہوتا ہے کہ قُربان ہونے کو جی چاہتا ہے ۔ گفتگو کرتے ہیں تو یُوں محسوس ہوتا ہے کہ حکمت کے موتی بکھیر رہے ہیں ۔ متانت ، وقار ، سچائی اور بردباری میں ان کی مثال نہیں پیش کی جاسکتی ۔ کل تک تم بھی انھیں صادق اور امین کہہ کر پکارا کرتے تھے ۔ اب تم ہی بتاؤ کہ ان میں یکایک کونسی تبدیلی آگئی ہے کہ تم نے ان کے بارے میں اپنی رائے بدل لی ہے ۔ ان اُمور میں اکیلے بیٹھ کر غور کرو یا اپنوں میں سے جن کو تم باشعور اور زیرک سمجھتے ہو انھیں بلاکر ان سے تبادلۂ خیال کرو ۔ لیکن خدارا تعصب اور ضد کو ایک طرف رکھ دو ۔ محض حق سمجھنے کیلئے اگر ایسا کروگے تو یقینا تم اس نتیجہ پر پہنچوگے کہ اﷲ کا محبوب نہ مجنون ہے نہ ان پر آسیب کا اثر ہے ۔ یہ جو کچھ کررہے ہیںمحض تمہاری خیرخواہی کے لئے کررہے ہیں ۔

TOPPOPULARRECENT