Monday , December 11 2017

قران

اے ایمان والو ! نہ تمسخر اُڑایا کرے مَردوں کی ایک جماعت دوسری جماعت کا شاید وہ ان مذاق اڑانے والوں سے بہتر ہوں اور نہ عورتیں مذاق اُڑایا کریں دوسری عورتوں کا شاید وہ ان سے بہتر ہوں…  (سورہ حجرات ۔ آیت ۱۱)
اس آیت میں مسلمانوں کو تمام ایسی باتوں سے سختی سے روکا جارہا ہے جن کے باعث اسلامی معاشرہ کا امن و سکون برباد ہوتا ہے، محبت و پیار کے رشتے ٹوٹ جاتے ہیں اور خون خرابہ شروع ہوجاتا ہے ۔ اس سلسلہ میں پہلا حکم یہ دیا کہ اے ایمان والو !ایک دوسرے کا مذاق نہ اُڑایا کرو ۔ مذاق اُسی کا اُڑایا جاتا ہے جس کی عزت اور احترام دل میں نہ ہو جب آپ کسی کا مذاق اُڑاتے ہیں تو گویا آپ اس چیز کا اعلان کررہے ہوتے ہیں کہ اس شخص کی میرے دل میں کوئی عزت نہیں ۔ جب آپ اس کی عزت نہیں کرتے تو اسے کیا پڑی ہے کہ وہ آپ کااحترام کرے۔جب دلوں سے ایک دوسرے کیلئے عزت و احترام کا جذبہ ختم ہوجاتا ہے تو انسان عداوت و دشمنی کی گہری کھڈ کی طرف لڑھکتا چلا جاتا ہے ۔ زبان سے مذاق کرنا ، نقلیں اُتارکر اُس کا مُنہ چِڑانا ، اس کے لباس یارفتار و گفتار پر ہنسنا سب ممنوع ہیں۔ یوں تو شریعت کے سارے احکام عموماً مرد و زون سب کے لئے ہوتے ہیں اور بطورِ تغلیب صیغہ مذکر کا ہی استعمال ہوتا ہے لیکن جو خرابی عورتوں میں نسبتاً زیادہ پائی جاتی ہے اس کو روکنے کے لئے عورتوں کو الگ مخاطب بنایا جاتا ہے ۔ یہاں بھی عورتیں چونکہ دوسروں کا مذاق اُرانے اور ان پر بھپتی کَسنے میں بڑی تیز رفتار ہوتی ہیں ، اس لئے یہاں اس نازیبا حرکت سے باز رہنے کا الگ حکم دیا اور اس کی وجہ بھی بتادی کہ جن کو تم حقیر سمجھتے ہو اور ان کا مذاق اُڑاتے ہو ممکن ہے بارگاہِ الٰہی میں ان کی شان تمام سے کہیں زیادہ بلند ہو ۔

TOPPOPULARRECENT