Tuesday , November 21 2017

قران

…اور نہ عیب لگاؤ ایک دوسرے پر اور نہ بُرے القاب سے کسی کو بلاؤ …  (سورہ حجرات ۔ آیت ۱۱)
دوسرا حکم یہ دیا کہ اور نہ عیب لگاؤ ایک دوسرے پر ۔ کسی کے منہ پر اُس کی عیب جوئی کرنے کو  اللمز کہتے ہیں ۔ اس آیت مبارکہ میں یہ بتادیا کہ کسی طرح بھی تمہیں یہ اجازت نہیں کہ اپنے بھائی کے عیب گِنواؤ اور اس کی خامیوں اور کمزوریوں کو اُچھالتے رہو ۔ ہر آدمی میں کوئی نہ کوئی عیب ہوتا ہے ۔ وہ نہیں چاہتا کہ اُس کا عیب ظاہر ہو ۔ اگر کوئی شخص اس کی خامیوں کا برملا اظہار کرتا ہے اور اس کے عیوب کے کھوج میں لگا رہتا ہے تو اس کا کبیدہ خاطر ہونا ایک قدرتی امر ہے اور قرآنِ حکیم اس کی اجازت نہیں دیتا ۔ قرآن کا اسلوب ملاحظہ ہو ۔ یہ نہیں کہا کہ تم ایک دوسرے کی عیب چینی نہ کیا کرو بلکہ فرمایا تم اپنی عیب جوئی نہ کیا کرو ۔ مقصد یہ ہے کہ جس کی بُرائیاںکرتے تم نہیں تھکتے وہ کوئی غیر تو نہیں ، تمہارا بھائی ہے ۔ اس کی بدنامی تمہاری بدنامی ہے ۔ اس کی فضیحت ہوئی تو شرمندہ تم ہوگے ۔ اس سے یہ مطلب بھی لیا جاسکتا ہے کہ جب تم کسی کی پردہ دری کروگے تو وہ تمہارے عیوب و نقائص کو طشت ازبام کرے گا ۔ تم اس کی عیب جوئی نہ کرتے تو وہ تمہاری نہ کرتا ۔ اب تمہیں جو خجالت ہورہی ہے یہ تمہارے اپنے کرتُوتوں کا ثمر ہے ۔ اگر اپنی عزت کو محفوظ رکھنا چاہتے ہو توکسی کی عزت پر ہاتھ مت ڈالو۔ تیسرا حکم یہ دیا کہ اور نہ بُرے القاب سے کسی کو بلاؤ ۔ کسی کو کسی لقب سے ملقب کرنے کو لغت میں نبز کہتے ہیں لیکن عموماً اس کا استعمال اس لقب کے لئے ہوتا ہے جس میں کسی کی مذمت ہو اور جسے وہ شخص ناپسند کرے ۔ کسی اندھے کو اندھا اور کانے کو کانا کہنا بھی جائز نہیں ۔ ہمیشہ ایسے اسماء اور القاب سے ایک دوسرے کو بلاؤ جس سے سُننے والا خوش ہوتا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT