Wednesday , November 22 2017

قران

… کتنا ہی بُرا نام ہے مسلمان ہوکر فاسق کہلانا اور جو لوگ باز نہیں آئیں گے ( اس روش سے ) تو وہی بے انصاف ہیں …
(سورہ حجرات ۔ آیت ۱۱)
بڑے پیارے انداز سے اپنے بندوں کو تنبیہ فرمائی جارہی ہے کہ تم اب میرے ہوچکے ہو ، تمہیں اب ایسی کوئی نازیبا حرکت نہیں کرنی چاہئے جس کی وجہ سے تمہیں بدکار اور فاسق کہا جائے ۔ اگر تم اسلام قبول نہ کرتے ، میرے محبوب رسول ؐ پر ایمان نہ لاتے اور شترِ بے مہار بنے من مانیاں کرتے رہتے تو تم سے کسی کو شکایت نہ ہوتی ۔ اب تم مُشّرف بہ اسلام ہوچکے ہو ۔ لوگ بجا طورپر تم سے توقع رکھتے ہیں کہ تم خیر و صلاح کا عملی نمونہ پیش کرتے رہوگے ۔ نیکی اور پارسائی تمہارا شعار ہوگا ۔ غلامانِ مصطفی کہلاکر اگر تم فسق و فجور سے اپنا دامن نہیں بچاتے تو بڑی بے حیائی اور افسوس کی بات ہے ۔ حضرت علامہ نے کیا خوب کہا ہے    ؎   گر نہ داری از محمد رنگ و بُو    از زبان خود میا لا نامِ اُو
یعنی اگر تمہاری سیرت اور کردار اپنے محبوب کے رنگ و بُو سے بہرہ ور نہیں تو تمہیں قطعاً یہ زیب نہیں دیتا کہ اپنی ناپاک زبان سے اس کا پاک نام لو ۔
آخر میں فرمایا جو شخص ان ناشائستہ حرکات سے تائب نہیں ہوتا وہ ظالم ہے ۔ اس جملہ سے فقہائے کرام نے ہتک عزت کا اسلامی قانون اخذ کیا ہے ۔ کوئی شخص کسی پر زنا کی تہمت لگائے تو نصِ قرآنی کے مطابق اس پر حدِ قذف لگائی جائے گی اوراگر کوئی شخص کسی کے حق میں بُرے الفاظ استعمال کرتا ہے تو اس کے خلاف اسلامی عدالت میں ہتک عزت کا دعویٰ دائر کیا جاسکتا ہے اور قاضی کو حق پہنچتا ہے کہ وہ ایسے شخص پر اس کے مناسبِ حال تعزیر لگائے ۔

TOPPOPULARRECENT