Friday , December 15 2017

قران

اے ایمان والو ! دُور رہا کرو بکثرت بدگمانیوں سے بلاشبہ بعض بدگمانیاں گناہ ہیں ، اور نہ جاسُوسی کیا کرو اور ایک دوسرے کی غیبت بھی نہ کیا کرو …                                                                       (سورہ حجرات ۔ آیت ۱۲)
ابھی مسلم معاشرہ کو ہر قسم کی شکررنجی سے محفوظ رکھنے کے لئے جو ہدایات دی جارہی تھیں ان کاسلسلہ اس آیت میں بھی جاری ہے ۔فرمایا بکثرت ظن و گمان کرنے سے اجتناب کیا کرو کیونکہ بعض ظن ایسے ہیں جو گناہ ہوتے ہیں ۔ اگر تم ظن و گمان کے شیدائی بن جاؤ تو ہوسکتا ہے تم ایسے گمان بھی کرنے لگو جو سراسر گناہ ہیں۔ ان کلمات کو دیکھا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ مطلقاً ظن سے نہیں روکا اور نہ ہر قسم کے ظن کو گناہ کہا گیا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کئی ظن جائز ہیں ۔ اس لئے علمائے کرام نے ظن کی متعدد قسمیں ذکر کی ہیں۔ واجب ، مستحب ، مباح اور ممنوع ۔ اﷲ تعالیٰ کے ساتھ حُسن ظن کرنا واجب ہے ۔ حضرت جابرؓ سے مروی ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ و آلہٖ و سلم نے اپنے وصال سے تین روز پہلے فرمایا ’’تم میں سے کوئی نہ مرے مگر اس حالت میں کہ وہ اﷲ تعالیٰ کے ساتھ حُسن ظن رکھتا ہو‘‘۔ کسی مسلمان کے عیبوں کا سراغ لگانا اور اس کے پوشیدہ حالات کو کریدنا ممنوع ہے ۔ اس طرح اس کی پردہ دری ہوگی ، حالانکہ ہمیں پردہ پوشی کا حکم دیا گیا ہے۔ ارشاد نبوی ؐ ہے ’’جو اس دنیا میں کسی مسلمان کی پردہ پوشی کرے گا ، قیامت کے دن اﷲ تعالیٰ اُس کی پردہ پوشی فرمائے گا ‘‘۔ غیبت کی تعریف خود زبانِ رسالت نے بیان فرمائی ہے ۔ ایک دن حضورؐ نے دریافت کیا تم جانتے ہو غیبت کیا ہے ؟ صحابہ نے عرض کیا اﷲ اور اس کارسول ہی بہتر جانتے ہیں۔ حضورؐ نے فرمایا ’’اپنے بھائی کا ایسا ذکر جسے وہ ناپسند کرے ‘‘۔

TOPPOPULARRECENT