Tuesday , December 12 2017

قران

پس کیا وہ شخص جس کے لئے مزیّن کردیا گیا ہے اس کابرا عمل اور وہ اسکو خوبصورت نظر آتا ہے ( اس کیلئے آپ آزردہ کیوں ہوں) بیشک اﷲ گمراہ کرتا ہے جس کو چاہتا ہے اور ہدایت بخشتا ہے جس کو چاہتا ہے ، پس نہ گُھلے آپ کی جان ان کے لئے فرطِ غم سے ، بیشک اﷲ تعالیٰ خوب جاننے والا ہے جو ( کرتوت) وہ کیا کرتے ہیں۔ (سورہ فاطر۔ آیت ۸)
علامہ قرطبی کہتے ہیں یہ سارا جُملہ مبتدا ہے اس کی خبر محذوف ہے جس پر  فلا تذھب نفسک دلالت کرتا ہے ۔ اس صورت میں تقدیم کلام یوں ہوگی کیا ایسے لوگ جو اپنے بُرے اعمال کو خوشنما سمجھ رہے ہیں ، ان کے لئے ازراہ غم آپ اپنی جان گُھلا رہے ہیں ۔ مدعا یہ ہے کہ وہ ایسی ہمدردی اور دلسوزی کے مستحق نہیں۔ ابتداء میں جب انسان گناہ کرتا ہے تو اس کا دل اُسے ملامت کرتا ہے ۔ اس کے رویہ کے خلاف سخت احتجاج کرتا ہے لیکن اگر وہ باز نہیں آتا تو دل کی آواز مدھم پڑجاتی ہے یا اس کے کان بہرے ہوجاتے ہیں کہ فطرتِ سلیمہ کی صدائے احتجاج اسے سنائی نہیں دیتی ۔اس کے بعد ایک اور مرحلہ آتا ہے کہ گناہ ، گناہ محسوس ہی نہیں ہوتا ۔ بلکہ وہی عین صواب نظر آنے لگتا ہے جب کوئی شخص اس مرحلہ پر پہنچتا ہے تو وہ ایک لاعلاج مریض ہے ۔ اﷲ تعالیٰ اپنے محبوب کریم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے طفیل دنیوی زندگی کے فریب سے بھی بچائے اور اس شاطر و عیار ، دھوکہ باز کے شر سے بھی محفوظ رکھے۔ لاحول ولا قوۃ اِلَّا باﷲ العلی العظیم۔

TOPPOPULARRECENT