Saturday , November 18 2017

قران

… اور خوشخبری سنانے والا اور بروقت ڈرانے والا ۔  (سورۃ الاحزاب ۔ ۴۵)
(گزشتہ سے پیوستہ ) حضور گواہ ہیں اﷲ تعالیٰ کی توحید اور اس کی تمام صفات کمالیہ پر ، کیونکہ جب ایسی باکمال ہستی اور ہمہ صفت موصوف ہستی یہ گواہی دے رہی ہو کہ لاالہٰ الااﷲ ، تو کسی کو اس دعوت کے حق ہونے میں شک نہیں رہتا ۔ حضوؐر کی اس شہادت سے وہ سارے حجاب تار تار ہوگئے اور اس جلیل المرتبت نبیؐ کی شہادت توحید کے بعد کوئی سلیم الطبع آدمی اس کو تسلیم کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرے گا ۔ نیز حضور اکرم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ و آلہٖ و سلم اسلام ، اس کے عقائد ، اس کے نظام عبادات و اخلاق اور اس کے سارے قوانین کی حقانیت کے بھی گواہ ہیں۔ اسی کے اتباع میں فلاح دارین کا راز مضمر ہے ۔ اسی آئین کے نفاذ سے اس گلشنِ ہستی میں بہار جاوداں آسکتی ہے اور جب قیامت کے روز سابقہ اُمتیں اپنے انبیاء کی دعوت کا انکار کردیں گی کہ نہ ان کے پاس کوئی نبی آیا اور نہ کسی نے ان کو دعوتِ توحید دی اور نہ کسی نے انہیں گناہوں سے روکا ۔ اس وقت بھرے مجمع میں اﷲ تعالیٰ کا یہ رسولؐ انبیاء کی صداقت کی گواہی دے گا کہ الہٰ العالمین! تیرے نبیوں نے تیرے احکام پہنچائے ۔
آنحضرت ﷺ کا دوسرا لقب ’’مبشر‘‘ ہے ۔ یعنی خوشخبری دینے والے ۔ جو اس دین پر ایمان لائے گا ، اس کے ارشادات پر عمل کرے گا وہ دونوں جہانوں میں کامیاب و کامران ہوگا ۔ علامہ اسماعیل حقی فرماتے ہیں کہ اہل ایمان اور اہل اطاعت کو جنت کی خوشخبری دیتے ہیں اور اہل محبت کو دیدارِ محبوب کی ۔ تیسرا لقب نذیرہے ۔ نذیر کا معنی ہے کسی شخص کو نافرمانی کے نتائج سے بروقت آگاہ کردینا ۔ یہ بھی حضور کی شان ہے ۔

TOPPOPULARRECENT