Thursday , November 23 2017

قران

آپ فرمائیے میں نہیں مانگتا اس (دعوتِ حق) پر کوئی معاوضہ بجز قرابت کی محبت کے…۔ (سورۃ الشوریٰ۔۲۳)
حضور سرورِ عالم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ و آلہٖ و سلم کی مقدس زندگی کا ایک ہی مقصد تھا کہ اﷲ تعالیٰ کے بندے جو طرح طرح کی گمراہیوں کے باعث اپنے رب سے بہت دور جاچکے ہیں پھر قریب ہوجائیں۔ کفر و شرک کے اندھیروں سے نکل کر پھر نورِ ہدایت سے اپنے قلب و نظر کو روشن کریں۔ اس مقصد کے حصول کیلئے حضورؐ کی لگن کا یہ عالم تھا کہ دن رات اسی میں مشغول رہتے ، ان کو سمجھاتے ۔
حضور سرورعالم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ و آلہٖ و سلم کے جملہ قرابت داروں خاندانِ بنوہاشم خصوصاً اہل بیتِ کرام کی محبت ، ان کا ادب و احترام عین ایمان بلکہ جانِ ایمان ہے جس کے دل میں اہل بیت کے لئے محبت نہیں وہ یوں سمجھے کہ اس کی شمعِ ایمان بُجھی ہوئی ہے اور وہ منافقت کے اندھیروں میں بھٹک رہا ہے ۔ جتنی کسی کی کی قرابت حضورؐ سے زیادہ ہوگی اتنی ہی اس کی محبت و احترام زیادہ مطلوب ہوگا ۔ ایک نہیں صدہا ایسی صحیح احادیث موجود ہیں جن میں اہلِ بیتِ پاک سے محبت کرنے اور ان کاادب ملحوظ رکھنے کا حکم دیا گیا ہے ۔ بے شک اہل بیت پاک کی محبت ہمارا ایمان ہے لیکن یہ حضورؐ کی رسالت کا اجر نہیں بلکہ یہ شجرِ ایمان کا ثمر ہے ۔ یہ اس گُل کی مہک ہے ، یہ اس خورشید کی چمک ہے ۔ جہاں ایمان ہوگا وہاں حُبِّ آلِ مصطفی ضرور ہوگی ۔

TOPPOPULARRECENT