Monday , December 18 2017

قران

آپ فرمائیے بے شک میری نماز اور میری قربانیاں اور میرا جینا اور میرا مرنا (سب) اللہ کے لئے ہے جو رب ہے سارے جہانوں کا۔ نہیں کوئی شریک اس کا اور مجھے یہی حکم ہوا ہے اور میں سب سے پہلا مسلمان ہوں۔ (سورۃ الانعام۔۱۶۳،۱۶۴)
حقیقت یہ ہے کہ اسلام کا حاصل اور توحید کا سب سے اونچا مرتبہ یہ ہے جہاں انسان کھڑا ہوکر یہ اعلان کرتا ہے کہ میری سجدہ ریزیوں کا مقصد اور میری ہر طرح کی نیاز مندیوں اور عبادتوں کا مدعا صرف اللہ تعالی ہے۔ میری زندگی اور میری موت صرف اسی کی رضا جوئی کے لئے ہے۔ میں اس کے ہر حکم کے سامنے سرافگندہ ہوں اور اس کے ہر فیصلہ پر راضی۔ اس کا کوئی شریک نہیں، نہ اس کی ذات میں اور نہ اس کی صفات میں۔ آیت میں لفظ ’’نسک‘‘ سے مراد ہر قسم کے نیک اعمال ہیں، جس میں قربانی بھی داخل ہے۔
حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا سب سے پہلے مسلم ہونا یا تو یہ مطلب ہے کہ اپنی امت میں سب سے پہلے آپ اللہ تعالی کی وحدانیت پر ایمان لئے اور آپ کے بعد آپ کی امت آپ کی دعوت سے اس شرف سے مشرف ہوئی۔ یا اولیت سے مراد اولیت حقیقہ ہے کہ سب مخلوقات سے پہلے اللہ تعالی کی توحید کا عرفان اتم ہمارے آقا و مولا صلی اللہ علیہ وسلم کو ہوا، کیونکہ ہر چیز سے پہلے حضو اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے نور کی تخلیق ہوئی اور سب سے پہلے آپﷺ نے ہی اپنے رب کی توحید کی شہادت دی۔ قتادہ کہتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ’’میری تخلیق تمام انبیاء سے پہلے ہوئی اور بعثت سب کے بعد‘‘ (قرطبی) یعنی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش سب مخلوق سے پہلے ہوئی۔ جامع ترمذی میں حدیث شریف ہے کہ ’’میں اس وقت بھی نبی تھا، جب آدم علیہ السلام ابھی روح و جسد کی درمیانی منزلیں طے کر رہے تھے‘‘۔ اس طرح جب آپﷺ اول الانبیاء ہیں تو اول المسلمین ہونے میں کیا شبہ ہو سکتا ہے۔

TOPPOPULARRECENT