Thursday , December 14 2017

قران

دونوں نے عرض کی اے ہمارے پروردگار! ہم نے ظلم کیا اپنی جانوں پر اور اگر نہ بخشش فرمائے تو ہمارے لیے اور نہ رحم فرمائے ہم پر تو یقیناً ہم نقصان اٹھانے والوں سے ہوجائیں گے۔       (سورۃ الاعراف :۲۳)
اگرچہ یہ خطا سہواً اور بلا قصد سرزد ہوئی تھی لیکن آدم علیہ السلام سراپا ندامت بن کر توبہ کا دروازہ کھٹکھٹاتے ہیں۔ کاملین کا یہی شیوہ ہے کہ معمولی سی خطا پر بھی کانپ اٹھتے ہیں اور آنسوؤں کے دریا بہا دیتے ہیں۔ اور اپنی عمر بھر کی عبادتوں اور ریاضتوں کو پرِکاہ کی اہمیت بھی نہیں دیتے بلکہ اپنے رب کریم کے دامن رحمت میں ہی پناہ تلاش کرتے ہیں۔ علی عادۃ الاولیاء والصالحین فی استعظامہم الغیر من السیئات واستصغارھم العظیم من الحسنات (کشاف) امام ابی حیان اندلسی رحمۃ اللہ علیہ نے یہاں خوب لکھا ہے کہ پانچ چیزیں آدم کی نجات کا باعث بنیں۔ (۱) اپنی غلطی کا اعتراف (۲) اس پر ندامت (۳)اپنے آپ کو اس پر ملامت کرنا (۴) توبہ (۵) اور رحمت الٰہی پر آس۔ اور پانچ چیزیں شیطان کی تباہی کا باعث بنیں۔ (۱) اپنے جرم کو تسلیم نہ کرنا (۲) نادم نہ ہونا (۳) ارتکاب جرم پر اپنے آپ کو ملامت نہ کرنا بلکہ اس کے صادر ہونے کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف کر دینا (فبما اغویتنی) (۴) توبہ نہ کرنا (۵) اور رحمت الٰہی سے مایوس ہو جانا۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT