Monday , September 24 2018

قران

ہر ایک خبر (کے ظہور) کا ایک وقت مقرر ہے اور عنقریب جان لوگے اور (اے سننے والے) جب تو دیکھے انھیں کہ بیہودہ بحثیں کر رہے ہیں ہماری آیتوں میں تو منہ پھیر لے ان سے، یہاں تک کہ وہ الجھنے لگیں کسی اور بات میں اور اگر (کہیں) بھلادے تجھے شیطان تو مت بیٹھو یاد آنے کے بعد ظالم قوم کے پاس۔ (سورۃ الانعام۔۶۷،۶۸)

ہر ایک خبر (کے ظہور) کا ایک وقت مقرر ہے اور عنقریب جان لوگے اور (اے سننے والے) جب تو دیکھے انھیں کہ بیہودہ بحثیں کر رہے ہیں ہماری آیتوں میں تو منہ پھیر لے ان سے، یہاں تک کہ وہ الجھنے لگیں کسی اور بات میں اور اگر (کہیں) بھلادے تجھے شیطان تو مت بیٹھو یاد آنے کے بعد ظالم قوم کے پاس۔ (سورۃ الانعام۔۶۷،۶۸)
کفار خیال کرتے کہ عذاب کی جو دھمکیاں ہمیں دی جا رہی ہیں، ان کی کوئی حقیقت نہیں، یہ محض ڈراوا ہے۔ اللہ تعالی کا ارشاد ہے کہ تم یونہی جلدی کر رہے ہو، میرے علم ازلی میں ہر چیز کے لئے وقت مقرر ہے اور ہر چیز اپنے وقت پر ظہور پزیر ہوجائے گی اور تم اس وقت خود بخود جان لوگے۔
صحبت کا اثر مسلّم ہے، انسان اپنے ہم نشین کی عادات، اخلاق اور عقائد سے ضرور متاثر ہوتا ہے، اسی لئے اللہ تعالی نے مسلمانوں کو ان لوگوں کے پاس بیٹھنے سے سختی سے منع کیا ہے، جن کا رات دن کا مشغلہ اسلام، پیغمبر اسلام اور قرآن حکیم پر طعن و تشنیع ہے، ایسے لوگوں کی صحبت سے پرہیز ضروری ہے، ایسا نہ ہو کہ تمہارا دل بھی ان کی باتوں سے متاثر ہونے لگے۔ آج کل کی عام گمراہی کی بہت بڑی وجہ یہ ہے کہ لوگ اس حکم پر عمل کرتے اور ان بدعقیدہ لوگوں کی صحبت میں بیٹھنے میں کوئی ضرر نہیں سمجھتے۔ نتیجہ وہی نکلتا ہے کہ متعدی مرض کے مریض کے پاس بیٹھنے والا بھی اس مرض کا شکار ہو جاتا ہے۔

TOPPOPULARRECENT