Saturday , January 20 2018

قران

وہ عقل مند جو یادکرتے رہتے ہیں اللہ تعالیٰ کو کھڑے ہوئے اور بیٹھے ہوئے اور پہلوؤں پر لیٹے ہوئے اور غور کرتے رہتے ہیں آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں (اور تسلیم کرتے ہیں) اے ہمارے مالک! نہیں پیدا فرمایا تونے یہ (کارخانۂ حیات) بے کار۔ پاک ہے تو (ہر عیب سے) بچالے ہمیں آگ کے عذاب سے۔ (سورہ آل عمران۔۱۹۱)

وہ عقل مند جو یادکرتے رہتے ہیں اللہ تعالیٰ کو کھڑے ہوئے اور بیٹھے ہوئے اور پہلوؤں پر لیٹے ہوئے اور غور کرتے رہتے ہیں آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں (اور تسلیم کرتے ہیں) اے ہمارے مالک! نہیں پیدا فرمایا تونے یہ (کارخانۂ حیات) بے کار۔ پاک ہے تو (ہر عیب سے) بچالے ہمیں آگ کے عذاب سے۔ (سورہ آل عمران۔۱۹۱)
اللہ تعالیٰ کی یاد اور اس کا ذکر کسی وقت اور کسی جگہ کے ساتھ مخصوص نہیں۔ کھڑے، بیٹھے، لیٹے، ہر حالت میں بندہ اپنے خالق کی یاد میں محو رہے۔ علامہ بیضاوی فرماتے ہیں کہ ’’مظاہر کائنات میں غور و تدبر کرتے رہنا، سب عبادتوں سے افضل ہے، کیونکہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے کہ تفکر و تدبر کے ہم پایہ کوئی عبادت نہیں‘‘۔ لیکن آج ہم اس افضل ترین عبادت سے کیسے اعراض کئے ہوئے ہیں اور کس طرح ہم نے اس کو صدیوں سے بالکل بھلا رکھا ہے، محتاج بیان نہیں۔آج اگرچہ کائنات کے ہر پہلو پر غور و فکر ہو رہا ہے اور وسعت کا یہ عالم ہے کہ ہر مظہر فطرت کے لئے ایک مستقل فن کی بنیاد پڑچکی ہے، لیکن مؤمن اور غیر مؤمن کی تحقیق میں ایک بنیادی فرق ہے۔ مؤمن جب کائنات کی کسی چھوٹی یا بڑی چیز پر غور کرتا ہے اور اس کی حیران کن تاثیرات اور اس میں مضمر ایک بدیع نظام پر اس کی نگاہ پڑتی ہے تو وہ اس کی حیران کن تاثیرات اور بدیع مضمرات میں کھوکر نہیں رہ جاتا، بلکہ اسی وقت اس کی نگاہ اس کے بنانے والے کی طرف بے تابانہ وار دوڑتی ہے اور اس کی زبان سے بے ساختہ یہ کلمات نکلتے ہیں ’’ربنا ماخلقت ھذا باطلا…الخ‘‘۔ لیکن ایک غیر مؤمن کی نگاہ ان مشاہدات کی چمک دمک سے خیرہ ہوکر رہ جاتی ہے اور اس کے بنانے والے کی عظمت و جلالت، علم و قدرت اور مشیت و حکمت کی طرف اس کی توجہ مبذول نہیں ہوتی۔ بے شک وہ ان کی تسخیر سے اپنی مادی ترقی کو معراج کمال تک پہنچا دیتا ہے، لیکن یقین کا چراغ روشن نہیں ہوتا اور اس کے دل کی دنیا پھر بھی تاریک کی تاریک ہی رہتی ہے۔

TOPPOPULARRECENT