Monday , December 11 2017

قران

یہ (قرآن) ایک پیغام ہے سب انسانوں کے لئے (اسے اتارا گیا ہے) تاکہ انھیں ڈرایا جائے اس کے ذریعہ اور تاکہ وہ اس حقیقت کو خوب جان لیں کہ صرف وہی ایک خدا ہے اور تاکہ اچھی طرح ذہن نشین کرلیں (اس حقیقت کو) دانشمند لوگ ۔ (سورۂ ابراھیم : ۵۲)
امام فخر الدین رازی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں کہ انسان میں دو قوتیں ہیں۔ قوت نظری اور قوت عملی ۔ اور انہیں کی تکمیل میں انسان کی تری اور کمال کا راز پنہاں ہے۔ قوت نظری کا کام حقائق موجودات کو جاننا ہے۔ اور اس کا کمال یہ ہے کہ سب سے اعلیٰ اور ارفع حقیقت یعنی     اللہ تعالیٰ کی توحید کا عرفان اسے حاصل ہو جائے اور قوت عملی کا کام یہ ہے کہ انسان اخلاق فاضلہ سے متصف ہو جائے اور تمام اخلاق فاضلہ سے افضل اور احسن خلق یہ ہے کہ انسان اپنے خداوند ذوالجلال کی اطاعت کو اپنا شعار بنالے۔ اور یہ دونوں کمال قرآن کریم میں غوروفکر کرنے سے حاصل ہوتے ہیں۔ جب کوئی شخص ہدایت طلبی کے جذبہ سے سرشار ہو کر قرآنی دلائل و براہین کا مطالعہ کرتا ہے تو وہ بےساختہ یہ کہہ اٹھتا ہے: لا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ، لہ الملک ولہ الحمد وھو علی کل شیء قدیر۔اور جب یقین کا یہ چراغ روشن ہو جاتا ہے تو عمل کی شاہراہ جگمگانے لگتی ہے اور وہ مستانہ وار یہ کہتا ہوا اس پر گامزن ہو جاتا ہے میں نے اپنا سراطاعت رب العالمین کے ہر حکم کے سامنے جھکا دیا ہے۔

TOPPOPULARRECENT