Tuesday , September 25 2018

قران

اور ہم میں بعض نیک بھی ہیں اور بعض اور طرح کے، ہم بھی تو کئی راستوں پر گامزن ہیں۔ اور (اب) ہمیں یقینا ہو گیا ہے کہ ہم زمین میں بھی اللہ تعالی کو ہرگز عاجز نہیں کرسکتے اور نہ بھاگ کر اسے ہراسکتے ہیں۔ (سورۃ الجن۔۱۱،۱۲)

اور ہم میں بعض نیک بھی ہیں اور بعض اور طرح کے، ہم بھی تو کئی راستوں پر گامزن ہیں۔ اور (اب) ہمیں یقینا ہو گیا ہے کہ ہم زمین میں بھی اللہ تعالی کو ہرگز عاجز نہیں کرسکتے اور نہ بھاگ کر اسے ہراسکتے ہیں۔ (سورۃ الجن۔۱۱،۱۲)
وہ کہتے ہیں کہ ہم سب جن ایک عقیدہ پر نہیں اور نہ ہی سیرت و اخلاق میں ہم یکساں ہیں۔ بعض ہم میں سے صالح اور نیک ہیں، جو کسی کو اذیت نہیں پہنچاتے، کسی کا نقصان نہیں کرتے اور بعض فتنہ پرور، شرارتی اور فسادی ہیں۔ پھر ہمارے مذہب بھی الگ الگ ہیں، بعض اللہ تعالی کی توحید اور اس کے انبیاء اور روز قیامت پر ایمان رکھتے ہیں اور بعض گمراہ ہیں۔
پہلے ہم اپنے سفہاء کے فریب میں آکر گمراہ ہو گئے تھے، لیکن قرآن سننے کے بعد اب ہماری آنکھیں کھل گئی ہیں اور ہمیں یقین ہو گیا ہے کہ نہ ہم زمین میں اللہ تعالی کو ہراکر بچ سکتے ہیں اور نہ یہ ممکن ہے کہ ہم یہاں سے کہیں بھاگ جائیں اور اس طرح اس کے قابو سے نکل جائیں۔
اس آیت کا یہ معنی بھی ہوسکتا ہے کہ قرآن سننے سے پہلے بھی ہمارا یہ عقیدہ ضرور تھا کہ اللہ تعالی بڑی قوت اور قدرت والا ہے، ہم اسے عاجز نہیں کرسکتے اور شاید اسی عقیدہ کی برکت سے ہم نے آسانی سے ہدایت قبول کرلی ہے اور جب ہم نے قرآن کا حقیقت افروز پیغام سنا تو شک و شبہ کے سارے بادل چھٹ گئے۔

TOPPOPULARRECENT