Monday , September 24 2018

قران

رحمن نے (اپنے حبیب کو) سکھایا ہے قرآن۔ پیدا فرمایا ’’انسان کو، (نیز) اسے قرآن کا بیان سکھایا۔ (سورہ الرحمن۔۱تا۴)

رحمن نے (اپنے حبیب کو) سکھایا ہے قرآن۔ پیدا فرمایا ’’انسان کو، (نیز) اسے قرآن کا بیان سکھایا۔ (سورہ الرحمن۔۱تا۴)
اس سورۂ رحمن میں ان تمام روحانی اور جسمانی، دنیوی اور اخروی نعمتوں کا ذکر تفصیل سے ہو رہا ہے، جن سے جن و انس کو ابتدائے آفرینش سے سرفراز فرمایا گیا، سرفراز فرمایا جا رہا ہے، یا عالم آخرت میں سرفراز فرمایا جائے گا۔ اس لئے اس کی ابتداء ’’الرحمن‘‘ سے ہوئی، جو مبالغہ کا صیغہ ہے۔ ازحد مہربان، بہت ہی رحمت فرمانے والا، جس کا دسترخوان جود و کرم اتنا کشادہ ہے کہ مؤمن و کافر، مطیع و عاصی، اپنے اور بیگانے کسی نہ کسی صورت میں مستفید ہو رہے ہیں اور جس کا دامن رحمت اتنا وسیع ہے کہ فقط یہ دنیائے فانی ہی نہیں، بلکہ از ازل تا ابد سب اس کے سایۂ عاطفت میں پناہ لئے ہوئے ہیں۔
حضرت امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ ’’الرحمن‘‘ کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ’’الرحمن، یعنی اپنے بندوں پر ازحد لطف و عنایت فرمانے والا۔ اس کا پہلا احسان تو یہ ہے کہ پیدا فرمایا۔ دوسرا لطف یہ ہے کہ پیدا کرنے کے بعد وادی ضلالت میں آوارہ بھٹکنے کے لئے نہیں چھوڑ دیا، بلکہ حق کی طرف رہنمائی فرمائی اور اسباب سعادت سے بہرہ ور فرمایا۔ تیسری ذرہ نوازی یہ کرے گا کہ یوم حشر اُن کی مغفرت فرمائے گا اور غایت رحمت کا ظہور اس وقت ہوگا، جب عاشقان زار کو، محبان دلفگار کو، مشتاقان دیدار کو، شرف دیدار سے مشرف فرمائے گا۔
نیز کفار کے ایک سوال کا جواب بھی ہے۔ انھوں نے جب اللہ تعالی کے اسمائے حسنی میں ’’الرحمن‘‘ سنا تو کہنے لگے کہ ’’الرحمن‘‘ کون ہے؟ ہم تو اس کو نہیں جانتے۔ بتا دیا کہ ’’الرحمن‘‘ وہ ہے، جس کی شان رفیع تم اس سورہ مبارکہ میں سنو گے۔

TOPPOPULARRECENT