Sunday , November 19 2017

قران

اور (یہ جانور) اٹھا لے جاتے ہیں تمہارے بوجھ ان شہروں تک جہاں تم نہیں پہنچ سکتے مگر سخت مشقت سے بیشک تمہارا رب بہت مہربان (اور) ہمیشہ رحم فرمانے والا ہےاور اس نے پیدا کیے گھوڑے اور خچرّ اور گدھے تاکہ تم ان پر سواری کرو اور (تمہارے لیے ان میں) زینت ہے، اور پیدا فرمائے گا ایسی سواریوں کو جو تم نہیں جانتے ۔ (سورۃ النحل : آیات ۷اور ۸ )
میدانی علاقہ ہو یا ریت کے ٹیلے ہوں۔ پہاڑوں کی بلندیاں ہوں یا وادیوں کا نشیب ہو۔ راستہ ہمورار ہو یا قدم قدم پر گڑھے ہوں، یہ جانور تمہارے بھاری بھر کم سامان کو اپنی پشتوں پر لادے ہوئے کس طرح خاموشی سے چلے جا رہے ہیں۔ ذرا غور تو کرو۔ اگر تمہیں یہ سامان خود اٹھا کر لے جانا پڑتا تو تمہیں کس دقت کا سامنا ہوتا۔ ایسے جانوروں کا بہم پہنچانا تمہارے پروردگار کی ازحد شفقت اور بےپایاں رحمت کا کتنا بڑا ثبوت ہے۔اس کی ذرہ نوازیوں نے صرف بار برداری کے جانور ہی پیدا نہیں کیے بلکہ تمہاری سواری کا انتظام بھی فرما دیا۔ جب تم ان پر سوار ہوتے ہو تو وہ اپنی سبک رفتاری سے ہوا سے باتیں کرنے لگتے ہیں اور قلیل عرصہ میں تمہیں منزل مقصود تک پہنچا دیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ اپنے احسانات کے کن کن پہلوؤں کو آشکارا فرماتا ہے۔ یہ بات توجہ کے قابل ہے۔ تمہاری بقا اور تمہارے آرام وآسائش کے لیے اللہ تعالیٰ نے بیشمار چیزیں پیدا کی ہیں۔ ان میں سے بعض تو ایسی ہیں جن کو تم جانتے ہو اور بعض ایسی بھی ہیں جن کی تمہیں خبر تک نہیں ۔ تم ان کا نام بھی نہیں جانتے۔ اور بفرمان ایزدی وہ شب و روز تمہاری خدمت میں مصروف ہیں ۔اس آیت سے نقل و حرکت کے وہ ذرائع بھی مراد لیے جاسکتے ہیں جو نزول قرآن کے وقت موجود نہ تھے لیکن بعد میں ایجاد ہوئے یا جو قیامت تک ایجاد ہوتے رہیں گے۔ یہ سب اللہ تعالیٰ ہی کی تخلیق ہے۔ یہ موٹریں، یہ دخانی بحری جہاز یہ طیارے اور راکٹ اور خدا معلوم ابھی اور کیا کیا بننے والا ہے۔ یہ سب اسی کی صفت رأفت و رحمت کے مظاہر ہیں۔

TOPPOPULARRECENT