Thursday , November 23 2017

قران

اور اللہ تعالیٰ کے ذمہ کرم پر ہے راہ راست کو دلائل سے واضح کرنا اور ان میں غلط راہیں بھی ہیں اور اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو تم سب کو ہدایت دے دیتا۔اللہ تعالیٰ وہ ہے جس نے اُتاراآسمان سے پانی تمہارے لیے اس میں سے کچھ پینے کے کام آتا ہے اور اس سے سبزہ اگتا ہے جس میں تم ( مویشی) چراتے ہو ۔ (سورۃ النحل : آیات ۹اور ۱۰)
آیت کا مطلب یہ ہے کہ راہ راست کو دلائل و براہین سے واضح کر دینا اللہ تعالیٰ نے اپنے ذمہ کرم پر لیا ہوا ہے۔ یہ سب اس کی مہربانی ہے اور راستے دو قسم کے ہیں۔ ایک سیدھا راستہ جو انسان کو اپنی منزل مقصود تک پہنچاتا ہے۔ دوسرے وہ راستے جو انسان کو غلط سمت کی طرف لیجاتے ہیں۔ اس لیے ہر پگڈنڈی جو سامنے آئے اس پر نہیں چل پڑنا چاہیے بلکہ پہلے اچھی طرح یہ معلوم کرنا چاہیے کہ کونسا ایسا راستہ ہے جو آپ کو اپنی منزل تک پہنچانے والا ہے۔ ایسا نہ ہو کہ آپ یونہی کسی راستہ پر گامزن ہو جائیں پھر آپ برسوں اس پر چلتے رہیں لیکن آپ کی منزل قریب آنے کی بجائے دور ہی ہوتی چلی جائے۔اس سے پہلے انسان اور اس کی بقا کے لیے جن اشیاء کی ضرورت تھی ان کی تخلیق کا ذکر فرمایا۔ ان آیات میں شان ربوبیت کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ جس قادر مطلق نے ایک قطرہ آب سے انسان جیسی دلکش اور دلچسپ مخلوق پیدا فرمائی ۔ اس نے پیدا کرنے کے بعد اسے فراموش نہیں کر دیا بلکہ اس کی نشوونما کے تمام تقاضوں کو باحسن وجوہ پورا فرمایا۔ سب سے پہلے پانی کا ذکر کیا۔ کیونکہ انسانی ، حیوانی اور نباتاتی زندگی کا دارو مدار اسی پر ہے۔ انسان اسے پیتا ہے اور اپنی چراگاہوں ، کھیتوں اور باغات کو سیراب بھی کرتا ہے۔ اسی سے چراگاہوں میں سبز گھاس اور کھیتوں میں شاداب چارہ لہلہانے لگتا ہے جو جانوروں کی خوراک بنتا ہے۔ اگر پانی ہی نایاب ہو جائے تو زندگی کی ساری رنگینیاں خاک میں مل جائیں۔ یہاں شجر سے مراد ہر وہ چیز ہے جو زمین سے اگتی ہے اور ابن قتیبہ نے کہا ہے کہ شجر سے مراد یہاں گھاس ہے۔

TOPPOPULARRECENT