Wednesday , November 22 2017

قران

اُگاتا ہے تمھارے لیے اس کے ذریعے (طرح طرح کے) کھیت اور زیتون اور کھجور اور انگور اور (انکے علاوہ) ہر قسم کے پھل۔ یقیناً ان تمام چیزوں میں (قدرت الہٰی کی) نشانی ہے اس قوم کیلئے جو غورو فکر کرتی ہے۔اور اللہ تعالیٰ نے مسخر فرما دیا تمہارے لیے رات، دِن سورج اور چاند کو اور تمام ستارے بھی اس کے حکم کے پابند ہیں بیشک ان تمام چیزوں میں (قدرت الٰہی کی) نشانیاں ہیں اس قوم کیلئے جو دانشمند ہے (سورۃ النحل : آیات ۱۱اور ۱۲)
ان چیزوں کے پیدا کرنے سے صرف تمہاری غذائی ضرورتوں کی تکمیل ہی مطلوب نہیں، ورنہ کوئی ایک جنس ہی پیدا کر دی جاتی اور اس سے تمہاری شکم پری ہوتی رہتی۔ طرح طرح کے اناج اور گوناگوں پھل پیدا فرما کر جہاں اپنی قدرت کی نیرنگیوں کی نقاب کشائی کی ہے وہاں تمہارے ذوق لطیف کی بھی نازبرداریاں کی گئی ہیں۔ کھجوریں کھائیے اور اگر ان سے جی بھر گیا ہے تو انگور کے خوشوں سے زمردین موتی توڑ کر اپنی نگاہوں اور اپنے ذائقے کی تسکین کیجئے۔ ہر اناج ہر پھل میں غذائیت کی مقدار اور ان کے دیگر مخصوص اثرات کا آپ جتنی گہری نظر سے مطالعہ کرینگے، اتنا ہی اس کی قدرت کے مستور جلوے اپنا گھونگھٹ اتارتے چلے جائیں گے اور تمہیں کہنا پڑیگا کہ رنگ میں، بو میں، ذائقہ میں اور اثر میں یہ تنوع پیدا کرنا اندھی فطرت کے بس کا روگ نہیں۔ یہ کسی علیم و خبیر ہستی کی کرشمہ کاری ہے۔ اسی لیے تو فرمایا اہل فکر کے لیے ان میں ہماری قدرت کی بیشمار نشانیاں ہیں۔ تم نے کبھی شب و روز کی گردش، شمس و قمر کے اثرات اور ستاروں کے مقصد کو سمجھنے کی کوشش نہیں کی۔تمہاری ظاہر پسند نظریں تو اتنا ہی سمجھ سکتی ہیں کہ اب رات ہوگئی۔ سونے کا وقت آگیا۔ اب دن چڑھ رہا ہے اب ہمیں جاگنا چاہیے۔ سورج دن کو روشنی پہنچاتا ہے اور چاند کا کام رات کو منور کرنا ہے۔ ان میں سے ہر چیز ہزاروں فوائد کی حامل ہے۔ لیکن ان فوائد سے وہ جواں ہمت لوگ ہی آگاہ ہو سکتے ہیں جو اپنی عقل و خرد کی قوتوں کو استعمال کرنا جانتے ہوں۔ ایسے باہمت لوگوں کو مظاہر فطرت کے ان آئینوں میں اللہ تعالیٰ کی عظمت کے دلائل ضیا پاشیاں کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT