Thursday , December 14 2017

قران

اور اللہ تعالیٰ نے گاڑ دیے ہیں زمین میں اونچے اونچے پہاڑ تاکہ زمین لرزتی نہ رہے تمھارے ساتھ اور نہریں جاری کر دیں اور راستے بنا دیے تاکہ تم (اپنی منزل کی) راہ پا سکو۔(سورۃ النحل : ۱۵)
جب کوئی چیز ایک جگہ جم کر کھڑی ہو جاتی ہے تو کہتے ہیں روسا ۔ ثبت و رسخ۔ اس لیے بندرگاہ کو بھی مرسیٰ کہتے ہیں۔ کیونکہ جہاز اور کشتیاں وہاں آکر ٹھیر جاتی ہیں۔ پہاڑ بھی کیونکہ ایک جگہ جم کر کھڑے رہتے ہیں اور حرکت نہیں کرتے اس لیے ان کو بھی رواسی کہا جاتا ہے تمید مید سے ہے اس کا معنی ہے دائیں بائیں ڈولتے رہنا الاضطراب یمینا وشمالا ٹہنیاں جب ہوا کے جھونکوں سے اوپر نیچے ہوتی ہیں تو کہا جاتا ہے مادت الاغصان آیت کا مدعا یہ ہے کہ زمین کو جب پیدا کیا گیا تو وہ اضطراری طور پر کبھی دائیں اور کبھی بائیں ڈولتی رہتی۔ اس پر پہاڑ گاڑ کر اس کا توازن برقرار کر دیا۔ اگر براہین قطعیہ سے کرہ زمین کی حرکت ثابت ہو جائے تو یہ آیت اس کے منافی نہیں۔ مولانا دریا آبادی لکھتے ہیں ان تمیدبکم سے جس حرکت ارض کی نفی مفقود ہے، وہ زمین کی دولابی یا اضطرابی حرکت ہے جیسے ہلکا جسم ہوا سے تیانے لگتا ہے۔ مطلق حرکت ارض کے مسئلہ کو جو تمام تر ایک سائنسی بحث ہے قرآن مجید کی کم از کم اس آیت سے نفیاً واثباتاً کوئی تعلق نہیں۔ (تفسیر ماجدی)

Top Stories

TOPPOPULARRECENT