Thursday , December 14 2017

قران

سب تعریفیں اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں جس نے نازل فرمائی اپنے (محبوب) بندے پر یہ کتاب اور نہیں پیدا ہونے دی اس میں ذراکجی۔ (سورۃ الکہف :۱)
اس سورت کا آغاز حمد سے کیا جا رہا ہے۔ ہر خوبی و کمال جس کا اظہار و اختیار اور ارادہ سے ہو۔ اس کی ستائش و ثناء کو عربی میں حمد کہتے ہیں۔ اس آیت میں اس کی صفت جودوکرم کا بیان ہے۔ جس نے ناقصوں کو کامل، گم کردہ راہوں کو خضر کارواں اور ابجدناشناسوں کو نہاں خانہ تقدیر کا رازداں بنادیا۔ اس لیے فرمایا سب ستائشیں اسی ذات بےہمتا کو زیبا ہیں، جس نے اپنے محبوب بندے پر یہ کتاب نازل فرما کر انسانیت کی شب دیجور کو صبح نور سے آشنا کیا ہے۔ عبدہ سے مراد صاحب قرآن اور الکتاب سے مراد قرآن کریم ہے۔اسی طرح جب الکتاب کہا جائے گا تو فوراً ذہن اس صحیفہ کاملہ اور نسخہ کیمیا کی طرف منتقل ہوگا جو قرآن کے نام سے ہمارے پاس موجود ہے۔ جس طرح صاحب کتاب اپنی شان عبدیت اور مقام بندگی میں بےنظیر ہے۔ اسی طرح یہ کتاب بھی بےعدیل ہے۔ اسی کتاب کی ایک شان بیان فرما دی کہ اس کی عبارت اور اس کا معنی اس کا ظاہر اور اس کا باطن ہرقسم کی کجی سے مبرا ہے۔ عوج یعنی اگر عین مکسور ہوتو ہوتو اس سے رماد معنوی کجی ہوتا ہے اور اگر عوج ہو یعنی عین مفتوح ہوتو اس سے مراد ظاہری ٹیڑھاپن ہوتا ہے ۔ یعنی اس میں ذرا سی بھی کجی نہیں ہے۔ علامہ راغب اصفہانی اس لفظ کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔ وہ ٹیڑھا پن جو آنکھ سے دیکھا جائے اسے عوج کہتے ہیں اور وہ کجی جو فکر اور بصیرت سے معلوم ہو اسے عوج کہتے ہیں ۔ (مفردات)

Top Stories

TOPPOPULARRECENT