Friday , April 20 2018

قران

اے نبی (مکرم) ہم نے بھیجا ہے آپ کو (سب سچائیوں کا) گواہ بنا کر اور خوشخبری سنانے والا ۔ (سورۃ الاحزاب :۴۵)
اللہ تعالیٰ اپنے حبیب کریم (صلی اللہ علیہ وسلم) کو بڑے محبت بھرے انداز سے خطاب فرماتا ہے ، اور اس کے بعد ان جلیل القدر خطابات کا ذکر کرتا ہے جن سے اس نے اپنے محبوب کو سرفراز فرمایا۔ ان کے ذکر سے اگر ایک طرف اپنے پیارے رسول کی عزت افزائی مقصود ہے تو دوسری طرف مسلمانوں کو بھی حوصلہ دیا جارہا ہے کہ تم ان طوفانوں سے نہ گھبراؤ۔ اس ملت کا سفینہ ہم نے کسی ایسے ملاح کے سپرد نہیں کیا جو کم ہمت ، دوں حوصلہ، نااہل اور ناتجربہ کار ہو۔ بلکہ اس کشتی کا نا خدا وہ نبی برحق ہے جس کو ہم نے ان صفات جلیلہ سے متصف کیا ہے۔ تم صبرو استقامت سے ان کا دامن اطاعت مضبوطی سے پکڑے رہو۔ یقیناً تمہیں ساحل مراد تک رسائی نصیب ہوگی۔ ساتھ ہی دشمنان اسلام کی ان ناپاک آرزوؤں کو بھی خاک میں ملا دیا جو اپنی سازشوں اور حیلہ سازیوں سے حق کی اس شمع فروزاں کو بجھانا چاہتے تھے۔ ارشاد فرمایا، اے میرے نبی! ہم نے تجھے شاہد بنایا ہے۔ شاہد کا معنی گواہ ہے اور گواہ کے لئے ضروری ہے کہ جس واقعہ کی وہ گواہی دے رہا ہے وہ وہاں موجود بھی ہو اور اس کو اپنی آنکھوں سے دیکھے بھی۔ چنانچہ علامہ راغب اصفہانی نے مفردات میں لکھا ہے: یعنی شہادت وہ ہوتی ہے کہ انسان وہاں موجود بھی ہو اور وہ اسے دیکھے بھی خواہ آنکھوں کی بینائی سے یا بصیرت کے نور سے۔ جب قیامت کے روز سابقہ امتیں اپنے انبیا کی دعوت کا انکار کر دیں گی کہ نہ ان کے پاس کوئی نبی آیا اور نہ کسی نے ان کو دعوت توحید دی اور نہ کسی نے انہیں گناہوں سے روکا۔ اس وقت بھرے مجمع میں اللہ تعالیٰ کا یہ رسول انبیاء کی صداقت کی گواہی دے گا کہ الہ العالمین! تیرے نبیوں نے تیرے احکام پہنچائے اور تیری طرف بلانے میں انہوں نے کسی کوتاہی کا ثبوت نہیں دیا۔

TOPPOPULARRECENT