Saturday , July 21 2018
Home / مذہبی صفحہ / قرآنِ مجید کی تلاوت کا حکمِ شرعی

قرآنِ مجید کی تلاوت کا حکمِ شرعی

سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید کو سورۂ یسین اور سورہ مزمل زبانی یاد ہے ، اگر زید روزانہ زبانی سورہ یسین یا سورہ مزمل کی تلاوت کرے تو کافی ہے یا دیکھ کر پڑھنا ضروری ہوگا ؟
جواب : ہر مسلمان کو قرآن شریف کی تلاوت کا اہتمام کرنا چاہئے ۔ اگر دیکھ کر قرآن پڑھنے کا وقت نہیں اور وہ زبانی قرآن پڑھتا ہے تو کافی ہے لیکن قرآن شریف زبانی پڑھنے کے بہ نسبت دیکھ کر پڑھنا زیادہ اجر و ثواب اور فضیلت کا موجب ہے کیونکہ دیکھ کر پڑھنے میں دو طرح سے عبادت کا ہونا ثابت ہے ۔ایک تو تلاوت اور دوسرا اس کا دیکھنا ، قرآن مجید کو دیکھنا بھی ایک مستقل عبادت ہے ۔ نیز نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔ افضل عبادۃ امتی قراء ۃ القرآن نظرا۔ یعنی میری امت کی افضل ترین عبادت دیکھ کر قرآن مجید پڑھنا ہے۔ فتاوی قاضیخان عالمگیری جلد اول صفحہ ۳۱۷ کتاب الکراھۃ میں ہے: قرأۃ القرآن فی المصحف اولی من القرأۃ من ظھر القلب ۔

نافرمان بیوی کو تعزیر کی جاسکتی ہے
سوال : کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے اپنی بیوی ہندہ کو ہدایت کی کہ وہ فلاں شخص سے پردہ کرے اس کے باجود ہندہ اس سے بے پردہ ہوکر ناشائستہ حرکات کرے تو کیا حکم ہے ؟ ان ناشائستہ حرکات کو آنکھوں سے دیکھ کر اور پکڑ کر پوچھنے پر بیوی اپنی ماں کو اُلٹا سمجھاکر اس شخص سے بدنامی سے بچنے کی خاطر مار پیٹ کی دھمکی دے رہی ہے، اس عمل سے عورت زوجیت میں رہیگی ؟ کیا ایسی عورت زوجیت میں رکھنے کے قابل ہے ؟
شوہر اگر دوسری شادی کرلے تو ہندہ کا نان نفقہ اور مہر زید پر واجب ہے ؟
جواب : صورت مسئول عنہا میں بیوی پر شوہر کی اطاعت واجب ہے کسی غیر محرم سے پردہ کرنے کی ہدایت کے باوجود اگر وہ پردہ نہ کرے تو شوہر کو حق ہے کہ وہ زوجہ کو تنبیہ و تعزیر کرے درمختار بر حاشیہ رد المحتار جلد تین صفحہ ۱۹۴ باب التعزیر میں ہے (یعزر المولی عبدہ و الزوج زوجتہ ) ولو صغیرۃ لما سیجیء (علی ترکھا الزنیۃ ) الشرعیۃ مع قدرتھا… ولا تتعظ بوعظہ او شتمتہ ولو بنحو یا حمار او ادعت علیہ او مزقت ثیابہ او کلمۃ یسمعھا اجنبی او کشفت وجھھا لغیر محرم او کلمتہ … ان کل معصیۃ لا حد فیھا فللزوج والمولی التعزیر۔
تاہم اس سے بیوی عقد سے خارج نہیں ہوتی نافرمان بیوی کو طلاق دینا ضروری نہیں ہے۔ جب تک زوجیت میں ہے اس کا نفقہ شوہر پر واجب ہے۔ اگر یہ یقین ہوجائے کہ عورت کے ساتھ زندگی گذارنا مشکل ہے اور شوہر طلاق دیدے تو مہر اور نفقئہ عدت واجب رہیگا۔

ملکیت
سوال : کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ حسینی بیگم کے ماں باپ کی جائیداد حسینی بیگم کے نام پر ہے اور موصوفہ اس جائیداد پر قابض بھی ہے۔ اس جائیداد میں حسینی بیگم کے شوہر کو کوئی حق پہنچتاہے یا کیا ؟بینوا تؤجرواآ
جواب : صورت مسئول عنہا میں جائیداد مذکور الصدر جب حسینی بیگم کے ماں باپ کی ہے تو اس میں حسینی بیگم کے شوہر کا کوئی حق نہیں ہے۔ اور حسینی بیگم کی حیات میں انکی مملوکہ جائیداد میں بھی شوہر کا کوئی حق نہیں رہتا۔
فقط واﷲ اعلم

TOPPOPULARRECENT