Thursday , December 14 2017
Home / مذہبی صفحہ / قرآن

قرآن

قریب آگیا ہے حکم الہی پس اس کے لیے عجلت نہ کرو۔پاک ہے اللہ تعالیٰ اور بر تر ہے اس شرک سے جو وہ کر رہے ہیں ۔ (سورۃ النحل :۱)
حضور نبی کریم (ﷺ) سے کفار بار بار مطالبہ کیا کرتے کہ ہم آپ کو نبی برحق تسلیم نہیں کرتے۔ آپ جس عذاب کی دھمکیاں ہمیں دیا کرتے ہیں وہ لے آئیے۔ اللہ تعالیٰ کے نزدیک تو ہر کام حکمت سے اور اپنے اپنے وقت پر ہوتا ہے۔ ان کی اس قسم کی طفلانہ حرکتوں سے اللہ تعالیٰ کے فیصلے بدل نہیں جایا کرتے۔ چنانچہ ہجرت سے پہلے جو بارہ تیرہ سال مکہ میں گزرے۔ ان میں اگرچہ کفار کی طرف سے دلاآزاریوں اور ستم رانیوں کی انتہاء ہوتی رہی۔ لیکن اللہ تعالیٰ کا حلم انہیں برداشت کرتا رہا اور اپنے محبوب مکرم (ﷺ) کو صبر کرنے اور انتظار کرنے کی تلقین کی جاتی رہی۔ مکہ مکرمہ کو چھوڑنے کی ساعت آپہنچی۔ چند ماہ بعد اللہ تعالیٰ کا رسول یہاں سے کوچ کرنے والا ہے، اس وقت ارشاد ہوتا ہے کہ اے میرے رسول آج ان متکبروں اور سرکشوں کو بتا دو کہ خدا کے عذاب کی گھڑی اب ان پہنچی ہے۔ تمہارے غرور اور نخوت کو خاک و خون میں ملانے کے لیے اس کی شمشیر انتقام بےنیام ہونے والی ہے ۔ چنانچہ ہجرت کے بعد ابھی دو سال بھی نہ گزرے تھے کہ وہ خودبدر کے میدان میں آئے اور کیفر کردار کو پہنچے۔ اس کے بعد ہر آنے والی ساعت ان کے لیے ہلاکت و بربادی کا پیغام بن کر ہی آتی رہی۔استعجال کا معنی کسی چیز کو اس مقررہ سے پہلے طلب کرنا ہے۔ کفار کو نزول عذاب کے لیے جلدی کا مطالبہ نہیں کرنا چاہئے۔ وہ بڑا ہی نادان ہوگا جو اپنی بربادی کے لیے سخت بےچین ہو۔ بتایا اللہ تعالیٰ ہر نقص اور عیب سے پاک ہے۔ وہاں کمال ہی کمال ہے۔ کسی کمی یا کمزوری کا کوئی احتمال ہی نہیں باقی۔ ہرچیز خواہ کتنی بڑی، کتنی مفید اور کتنی پائیدار ہو، وہ عیب سے خالی نہیں۔ اگر اس کا کوئی دوسرا عیب کسی کو نظر نہ آئے تو یہ عیب تو کسی سے مخفی نہیں کہ وہ اپنے موجود ہونے میں اپنے بنانے والے اور پیدا کرنے والے کی محتاج ہے۔ اور جہاں افتقار اور احتیاج ہو، وہ خدا کا شریک کیسے ہوسکتا ہے۔

TOPPOPULARRECENT